خطبات محمود (جلد 19) — Page 119
خطبات محمود 119 سال ۱۹۳۸ء یہ ہوتی ہے کہ انسان آگے بھی تندرست رہے۔تو تنویر وہ فکر کی درستی ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں آئندہ جو خیالات بھی پیدا ہوں درست ہی ہوں۔تو روحانی ترقی کیلئے تنویر فکر ضروری ہوتی ہے۔اسی طرح روحانی ترقی کیلئے تقویٰ اور طہارت کی ضرورت ہوتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جو تنویر کے معنے دماغ کی نسبت سے ہیں وہی تقویٰ کے معنی دل کی نسبت سے ہیں۔ہمارے لوگ عام طور پر غلطی سے نیکی اور تقوی کو ایک چیز سمجھ لیتے ہیں حالانکہ نیکی وہ نیک کام ہوتا ہے جو ہم کر چکے ہیں یا آئندہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر تقویٰ یہ ہے کہ انسان ایسے مقام پر کھڑا ئے کہ اس کے اندر آئندہ جو جذبات بھی پیدا ہوں وہ نیک ہوں۔تو افکار کیلئے تنویر اور جذبات کیلئے تقویٰ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور جب کسی انسان کو تنویر افکار اور تقوی قلب حاصل ہو جائے تو وہ بدی کے حملہ سے بالکل محفوظ ہو جاتا ہے اور ایسا انسان اللہ تعالیٰ کے فضل کے نیچے آجاتا ہے۔پس یہ دو چیزیں ہیں جن کی جماعت کو ضرورت ہے۔ایک تو یہ کہ ہمارے خیالات صحیح ہوں اور ہمارے جذبات پاکیزہ ہوں۔اور دوسری یہ کہ نہ صرف ہمارے خیالات صحیح ہوں بلکہ ہمارے اندر ایسا ملکہ پیدا ہو جائے کہ آئندہ جب بھی ہمیں کوئی خیال پیدا ہو وہ صحیح ہو اور نہ صرف ہمارے جذبات پاکیزہ ہوں بلکہ ہمارے اندر ایسا ملکہ پیدا ہو جائے کہ آئندہ جب بھی ہمارے اندر جذبات پیدا ہوں وہ پاکیزہ ہوں۔اول امر کو تنویر کہتے ہیں اور دوسرے امر کو تقوی۔چنانچہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی دماغ کو تنویر عطا کی جاتی ہے اور کسی کے دل میں ایسا مادہ تقویٰ پیدا کر دیا جاتا ہے کہ باوجود کسی بات کو نہ جاننے کے وہ سمجھ جاتا ہے کہ شیطان اس موقع پر مجھے دھوکا دے رہا ہے۔چند بزرگوں کے متعلق آتا ہے کہ ایک دفعہ وہ اکٹھے مل کر سفر کر رہے تھے کہ راستہ میں ایک شخص نے مہمان نوازی کے طور پر ان کی دعوت کی اور کھانا ان کے سامنے رکھا۔جب وہ کھانا کی کھانے کیلئے بیٹھے تو معا سب نے اپنے ہاتھ کھینچ لئے۔جب انہوں نے ایک دوسرے سے پوچھا کہ آپ نے ہاتھ کیوں کھینچے ہیں؟ تو ہر ایک نے یہی کہا کہ یہ کھانا طیب معلوم نہیں ہوتا۔آخر جس نے دعوت کی تھی اُسے بلا کر انہوں نے پوچھا۔تو مجھے اب اچھی طرح یاد نہیں اُس نے جانور کے