خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 106

خطبات محمود 1+4 سال ۱۹۳۸ء مٹا دینے کو میرا جی چاہتا ہے مگر کسی انسان سے مجھے دشمنی نہیں ہوئی۔حتی کہ سلسلہ کے شدید ترین دشمنوں کی ذات سے بھی مجھے آج تک کبھی عداوت نہیں ہوئی حالانکہ اگر عداوت جائز ہوتی تو ان لوگوں سے ہوتی جو خدا اور اس کے رسول کے دشمن ہیں کیونکہ مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو کم درجہ دے مگر خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں کو زیادہ بُرا جانے۔مگر جب خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں کی ذات سے بھی مجھے کبھی عداوت نہیں ہوئی تو اپنے دشمنوں کی ذات سے مجھے کس طرح عداوت ہو سکتی ہے۔یہ دل بے شک چاہتا ہے کہ ہمارے سلسلہ کے دشمن اپنے منصوبوں میں ناکام رہیں اور اللہ تعالیٰ یا تو انہیں ہدایت دے یا ان کی طاقتوں کو توڑ دے مگر یہ کہ ان کو اپنی ذات میں نقصان پہنچے یہ خواہش نہ کبھی پہلے میرے دل میں پیدا ہوئی اور نہ اب ہے۔تو آدمیوں کی عداوت کوئی چیز نہیں۔جس چیز کو مٹانا ہمارا فرض ہے وہ خلاف اسلام عقائد اور طریقے ہیں جو دنیا میں جاری ہیں۔اگر ہم ان عقائد اور ان طریقوں کو مٹانے کی بجائے کی آدمیوں کو مٹانے لگ جائیں اور وہ اصول اور طریق خود اختیار کر لیں تو اس کی ایسی ہی مثال ہوگی جیسے کوئی بادام کے چھلکے رکھتا جائے اور مغز پھینکتا جائے۔آدمی تو مغز ہیں اور ان کے افعال وہ چھلکے ہیں جن کو دور کرنا ہمارا کام ہے۔پس جس چیز کو مٹانا ہے اگر اسی کو ہم لے لیں اور جس کو رکھنا ہے اس کو مٹا دیں تو اس میں کونسی عقلمندی ہوگی۔پس میں اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنی قربانیوں پر غور کرو اور یا درکھو کہ جو قربانیاں اس وقت کی جارہی ہیں وہ ہرگز کافی نہیں ہیں۔اسلام اور احمدیت کی ترقی کیلئے بہت بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے۔اسی طرح میں صدرانجمن احمد یہ اور اس کے کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جس طریق پر وہ چل رہے ہیں وہ منہاج نبوت والا طریق نہیں اور اس پر چل کر کی انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ہاں اگر وہ منہاج نبوت پر اپنے کاموں کی بنیاد رکھ لیں گے تو پھر کامیابی انہیں حاصل ہو جائے گی اور جلد یا بدیر ایسا ہو کر رہے گا۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ کوئی نبی آئے اور اس کی جماعت کے نظام کا کوئی حصہ منہاج نبوت سے باہر رہ جائے۔پس کیوں نہ جو چیز بعد میں آنی ہے اس کو ابھی لے لیا جائے اور جس امر کو سالوں بعد اختیار کرنا ہے اسے ابھی سے اختیار کر لیا جائے۔اگر صدرانجمن احمد یہ اس طریق کو اختیار کر لے تو یقیناً بہت جلد