خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 898 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 898

خطبات محمود ۸۹۸ سال ۱۹۳۸ء میونسپل کمیٹیوں کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ روشنی کا معقول انتظام کریں۔میونسپل کمیٹیوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ گلیوں اور سڑکوں کو صاف رکھیں اور میونسپل کمیٹیوں کا فرض ہو ا کرتا ہے کہ وہ سڑکیں کھلی اور چوڑی رکھیں۔اگر یہاں کی ٹاؤن کمیٹی کے ممبران امور کی طرف توجہ نہیں کرتے تو یقیناً وہ اپنے فرائض کی بجا آوری میں غفلت اور کوتاہی سے کام لیتے ہیں۔مثال کے طور پر انہوں نے جلسہ میں کہا ہے کہ آرائیوں کی جو مسجد ہے جہاں احرار کا جمعہ ہوتا ہے وہاں پوری صفائی نہیں کی جاتی اور گند پڑا رہتا ہے۔اگر یہ بات واقعی صحیح ہے تو یہ اس وارڈ کے ممبر کی غلطی ہے کہ اس کی نے اپنے وارڈ کی صفائی کا خیال نہیں رکھا۔ایسے معاملات میں ہمیں قطعا یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ ان لوگوں کی طرف سے ہماری مخالفت کی جاتی ہے بلکہ ہمیں ان کے حقوق کی کامل حفاظت کرنی چاہئے اور ہماری جماعت کے ممبروں کا فرض ہے کہ خواہ کسی وارڈ میں احمدی رہتے ہوں یا غیر احمدی ،سب کے حقوق کا خیال رکھیں۔روشنی کا معقول انتظام کرنا، گلیوں کی صفائی ، سڑکوں کی صفائی اور اسی طرح اور رفاہ عام کے کام میونسپل کمیٹیوں کے فرائض میں شامل ہیں اور ممبران کا کی فرض ہے کہ وہ یہ دیکھتے رہیں کہ یہ حقوق سب کو ملے ہیں یا نہیں اور اگر کسی جگہ یہ حق ادا نہ کیا کی جار ہا ہو تو اس جگہ فوری طور پر مناسب انتظام کیا جائے تا کہ کسی کوکوئی شکوہ نہ رہے۔باقی رہا ان کا اور ہمارا مقابلہ یا اُن کی گالیاں اور دھمکیاں۔سو یہ ایسی چیز نہیں جس کی ہم پرواہ کریں یا جس کی وجہ سے ہم گھبرا جائیں۔بہر حال ان کا راستہ الگ ہے اور ہمارا الگ۔انہوں نے جب اپنے لئے یہ رستہ تجویز کیا ہوا ہے کہ وہ ہماری مخالفت کریں تو وہ اس کے اچھے یا بُرے پہلو کو خود سمجھ سکتے ہیں۔ہمارا فرض یہی ہونا چاہئے کہ ہم ان کے مقابلہ میں اپنی حفاظت اور بچاؤ کے تمام جائز ذرائع اختیار کرتے ہوئے اپنی برتری اور اپنے حقوق کی فوقیت کو قائم رکھیں اور چونکہ ہماری یہاں تعداد زیادہ ہے، ہم یہاں کے مالک ہیں اور قادیان ہمارا ایک علمی اور مذہبی مرکز ہے اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم قادیان کی امتیازی شان کو بھی برقراری رکھیں لیکن اس کے مقابلہ میں جو شہری حقوق ہیں وہ سب کو یکساں ملنے چاہئیں اور سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہونا چاہئے۔مثلاً ہمارے مرکز کی گلیاں ہیں۔اب مذہبی لحاظ سے چاہے یہ ہمارا مرکز ہی ہے اور چاہے ہم کتنی ہی خواہش رکھتے ہوں کہ ہمارے مرکز کی گلیاں زیادہ پاکیزہ اور