خطبات محمود (جلد 19) — Page 899
خطبات محمود ۸۹۹ سال ۱۹۳۸ زیادہ صاف ستھری ہوں پھر بھی کمیٹی کے قانون کے لحاظ سے ہمارا فرض ہے کہ ہم تمام گلیوں کا کی یکساں خیال رکھیں۔خواہ وہ گلیاں احمدیوں کے محلہ کی ہوں یا ہندوؤں اور سکھوں کے محلہ کی۔ہاں اگر مذہبی مرکز ہونے کے لحاظ سے ہم اپنی گلیوں کو عام گلیوں سے زیادہ مصفی اور زیادہ اعلیٰ بنانا چاہیں تو ہمیں ان گلیوں کی صفائی پر اپنا ذاتی روپیہ خرچ کرنا چاہئے۔ہمیں قطعا یہ حق حاصل نہیں کہ ہم کمیٹی کا روپیہا اپنی گلیوں پر زیادہ صرف کر لیں اور اس کے فنڈ سے زیادہ حصہ اپنے لئے لے لیں۔دوسری جگہوں میں بے شک ایسا ہی ہوتا ہے۔مثلاً لاہور میں جتنا روپیہ مال روڈ پر خرچ کی کیا جاتا ہے اتنا روپیہ دوسری سڑکوں یا عام گلیوں پر صرف نہیں کیا جا تا مگر وہ انگریزی اخلاق ہیں ، اسلامی اخلاق نہیں اور ہم یقیناً اسلامی تعلیم کے ماتحت انگریزوں کے اس فعل کو بھی نا پسند کرتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں مال روڈ پر بھی اتنا ہی روپیہ خرچ کرنا چاہئے جتنا روپیہ وہ باقی سڑکوں پر خرچ کرتے ہیں۔اسی طرح گلیوں کی صفائی پر بھی ایک جیسا خرچ ہونا چاہئے اور یہ صرف لاہور کی بات نہیں اور شہروں میں بھی یہی نظر آتا ہے کہ وہ سڑکوں اور گلیوں کی صفائی کی میں سب سے یکساں سلوک نہیں کرتے۔مگر ہمیں ان باتوں میں ان کی نقل نہیں کرنی چاہئے بلکہ شہر کا روپیہ سارے شہر پر یکساں خرچ کرنا چاہئے اور اگر کوئی چیز ایسی ہو جسے جماعت کے لحاظ سے کوئی فوقیت حاصل ہو تو ہمیں یہ امر ضرور مد نظر رکھنا چاہئے کہ اس کے اخراجات ہم آپ برداشت کریں۔بجائے اس کے کہ شہر کے روپیہ کو اس پر صرف کیا جائے۔یہ کم سے کم انصاف کی ہے جو لوگوں سے کیا جا سکتا ہے کہ جس جس جماعت کا جتنا روپیہ آئے اس قد ر روپیہ سے اس جماعت کو فائدہ پہنچ جائے ورنہ جو زیادہ لوگ ہوں اور اکثریت میں ہوں اُن کا تو اخلاقی لحاظ کی سے یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے روپیہ میں سے کچھ حصہ بچا کر غریبوں پر خرچ کیا کریں۔کیونکہ اصل اسلامی اخلاق یہی ہیں۔پس میں امید کرتا ہوں کہ مخالفت اور گالیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اور ان ناجائز ذرائع کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جو دشمن ہمارے مقابلہ میں اختیار کرتا ہے صبر اور اسلامی علو حوصلہ سے کام لیتے ہوئے ہماری جماعت کے احمدی ممبر نہ صرف احمدی حقوق کی حفاظت کریں گے بلکہ وہ غیر احمدیوں ، سکھوں اور ہندوؤں کے حقوق کی بھی حفاظت کریں گے اور جہاں کہیں انہیں نقصان پہنچ رہا ہو وہاں وہ ان کی جائز مدد سے دریغ نہیں کریں گے۔