خطبات محمود (جلد 19) — Page 880
خطبات محمود ۸۸۰ سال ۱۹۳۸ء ہوتا ہے۔باقی گوشت وغیرہ رہ جاتا ہے وہ بیشک اس طرح جمع نہیں کیا جاسکتا مگر اس کا زیادہ خرچ نہیں ہوتا۔ایسے علاقے بھی ہیں جن سے چاول وغیرہ بھی جمع کئے جا سکتے ہیں مگر افسوس کی ہے کہ محکمہ والے توجہ نہیں کرتے۔بہر حال اس سال بھی وہی دقت در پیش ہے اور محکمہ والے شور کر رہے ہیں کہ روپیہ نہیں کام کس طرح چلایا جائے اس لئے میں پھر دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔بے شک اس وقت ہماری جماعت کے لئے بہت سی مشکلات ہیں یہ سال مالی لحاظ سے بہت تنگی کا سال ہے اور شاید اسکے نتیجہ میں اگلا سال بھی کسی قدر مشکلات رکھتا ہو۔مگر مومنوں کے لئے یہ باتیں پر واہ کے قابل نہیں جن کے ایمان کمزور ہیں ان کے لئے سکھ کے دن بھی کمزوری کے دن ہوتے ہیں۔جن کے دل میں مرض ہو ان کے پاس اگر کروڑوں روپیہ ہو تب بھی وہ یہی کہیں گے کہ کھانے کو نہیں ملتا۔چندے کہاں سے دیں لیکن مؤمن کے پاس کچھ بھی نہ ہو تو بھی وہ یہی کہے گا کہ بسم اللہ میں حاضر ہوں۔یہ بچے اور جھوٹے دوست کے فرق کا وقت ہے۔اس سال صحیح یا غلط طور پر ایک مقابلہ کا رنگ پیدا ہو گیا ہے یا پیدا کر دیا گیا ہے۔کیونکہ جو بلی کی تحریک دراصل چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب نے پہلے سے کی ہوئی تھی مگر ہمارے قدیم معاندین یعنی اہل پیغام نے بھی اسے شروع کر دیا ہے اور ان کے لئے یہ آسانی ہے کہ وہ غیر احمدیوں سے بھی مانگ لیتے ہیں اور پھر دنیا کی کے سامنے یہ بات پیش کرتے ہیں کہ دیکھو ہماری چھوٹی سی جماعت کس قدرقربانی کر رہی ہے تو کی یہ تحریک بھی ہمارے سامنے ہے۔اس کے علاوہ تحریک جدید کے چندے ہیں۔جن کی طرف میں جماعت کو توجہ دلا چکا ہوں کہ ان سے ایک مستقل فنڈ کی بنیاد ڈالی جا رہی ہے۔پس جو ان میں حصہ لے گا اُس کا نام ہمیشہ کے لئے تاریخ میں محفوظ ہو جائیگا۔پھر عام چندوں کا مطالبہ بدستور ہے یہاں کے کارکنوں کی تنخواہوں میں بھی کمی کر دی گئی ہے اور پھر اس کے ساتھ بیرونی جماعتوں کو تحریک کی گئی ہے کہ وہ اپنے چندوں میں اضافہ کریں۔پس یہ دن غیر معمولی مالی قربانی کے ہیں مگر مؤمن کا ایمان اور اخلاص ایسے ہی وقت میں پر کھا جاتا ہے اور حقیقی دوست کی پہچان کا یہی وقت ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک امیر کا نوجوان بیٹا سارا سارا دن اپنے دوستوں میں بیٹھا وقت ضائع کرتا