خطبات محمود (جلد 19) — Page 878
خطبات محمود ۸۷۸ سال ۱۹۳۸ء اللہ تعالیٰ کہے گا کہ تمہارے پاس تو روپے موجود تھے مگر تم نے قربانی نہ کی لیکن اس کے پاس کچھ نہ تھا پھر بھی یہ پیچھے نہ رہا اس نے سمجھا کہ اگر میں نے عام مزدوری کے اصول پر مزدوری تلاش کی تو شاید کوئی کام نہ ملے اس لئے کسی کے آگے یہ تجویز رکھ دی کہ مجھ سے کام لے لو اور جو دینا چاہو دے دینا اور ظاہر ہے کہ ایسا نوکر جسے مل جائے وہ کیوں اس سے کام نہ لے گا۔ہمارے ملک کے چھوٹے قصبات میں چپڑاسی کی تنخواہ عام طور پر دس بارہ روپے ماہوار ہے۔شہروں میں پندرہ بیس بھی ہوتی ہے۔خاص قسم کے نوکر مثلاً میرے وغیرہ چھپیں تھیں بھی لیتے ہیں لیکن اگر کسی کو کوئی ایسا چپڑاسی مل جائے جو کہے کہ مجھے کھانا دے دیا کریں اور ساتھ صرف ایک دو روپے ہی دے دیں تو کئی لوگ جو عام طور پر نو کر نہیں رکھتے اسے رکھنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔پوری تنخواہ پر ملازمت تلاش کرو تو شاید ہی مل سکے لیکن اس طرح اگر کہا جائے کہ جو مرضی ہو دے دیں تو کئی لوگ آمادہ ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ چلو اسے ملازم رکھنے کی وجہ سے جو وقت ہمارا بچے گا اس میں ہم اپنے کام کو وسعت دے لیں گے۔تو اسی طرح اس صحابی نے یہ نہیں کہا کہ مجھے پوری مزدوری دو کیونکہ اس طرح ممکن تھا کہ کام مل ہی نہ سکتا بلکہ تھوڑی سی مزدوری پر راضی ہو گئے تا ثواب سے محروم نہ رہیں اور کام لینے والے کو بھی اگر چہ ضرورت نہ تھی لیکن سستا مزدور مل گیا اس لئے اس نے کام لے لیا اور اس طرح مزدوری کر کے اس صحابی نے اُجرت لا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش کر دی اور اس طرح ایک اعلیٰ نمونہ کی دوسرے ہزاروں ایسے لوگوں کے لئے جو اپنے آپ کو نا دار قرار دے کر قربانی سے گریز کرتے ہیں پیش کر دیا۔پس ہر شخص کو عذر کرتے وقت غور کر لینا چاہئے کہ اسی جیسے حالات میں بعض دوسرے لوگ قربانی پیش کر رہے ہیں پھر کیا اس کا عذر اللہ تعالیٰ کے حضور میں قابل سماعت ہوگا اور جلسہ کی کی امداد کے بارہ میں قادیان کے لوگوں کو خصوصاً اپنے نفس کا محاسبہ کر لینا چاہئے کیونکہ جیسا میں نے بتایا ہے جلسہ کے اخراجات کے مہیا کرنے کے متعلق قادیان کے لوگوں پر دوسروں سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے بلکہ گوا بھی ہماری مالی حالت ایسی ہے کہ بیرونی جماعت کو بھی اس بوجھ کے اٹھانے میں مدد دینی پڑتی ہے لیکن اصل میں قادیان کے لوگوں کا ہی حق ہے کہ وہ یہ بوجھ کی