خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 853 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 853

خطبات محمود ۸۵۳ سال ۱۹۳۸۔دیکھو انہوں نے یہ یہ الفاظ کہے ہیں اور کہتا ہے میری رائے میں یہ امر قابلِ اعتراض اور حفظ امن کی ضمانت طلبی کا متقاضی ہے۔مگر وہ اس سے نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ ان کے الزامات کو کی بڑی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے میں نے بتایا ہے کہ کوئی جج اپنے فیصلہ میں قتل کا ذکر کرے تو اس سے نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ ان کے الزامات کو بڑی اہمیت حاصل ہو گئی ہے یہ ایسی ہی بات ہے جیسے میں نے بتایا ہے کہ کوئی جج اپنے فیصلہ میں قتل کا ذکر کرے تو اس سے یہ نتیجہ نکال لیا جائے کہ اب قتل جائز ہو گیا۔کوئی عقل کا اندھا ہی ایسا نتیجہ نکالے تو نکالے کوئی عقلمند ایسا نتیجہ نہیں نکال سکتا۔بہر حال میرے نزدیک اللہ تعالیٰ نے اس ذریعہ سے ہمارے لئے دوراستے کھولے ہیں۔ایک تو ہمارے لئے یہ راستہ کھولا ہے کہ ہمیں لوگوں کے سامنے یہ بات ثابت کرنے کا موقع حاصل ہو گیا ہے کہ ہم جو کہتے تھے یہ ہم پر ظالمانہ الزام لگاتے ہیں ہمیں کی گالیاں دیتے ہیں اور ہمیں بُرا بھلا کہتے ہیں یہ بالکل درست تھا اور اس کا ثبوت ان کا یہ تازہ اشتہار ہے۔چنانچہ یہ اشتہار کسی شریف ہندو، کسی شریف عیسائی ، کسی شریف سکھ اور کسی شریف مسلمان کے سامنے رکھ دو اور کہو کہ یہ اشتہار ہے اسے پڑھ کر آپ بتائیں کہ ظالم یہ ہیں یا ہم، تو ہر شریف انسان ( اور شریف انسان کی رائے ہی وقعت رکھتی ہے ) یہی کہے گا کہ تم مظلوم ہو اور یہ ظالم ہیں۔اور جو غیر شریف ہیں ان کی رائے کی کوئی قدر ہی نہیں ہوتی وہ ہمیشہ گند اُچھالتے رہتے ہیں اور گند میں ہی ان کو لذت آتی ہے۔تو خدا تعالیٰ نے ہمارے دشمن کے مقابلہ میں خود دشمن کے منہ سے ہی ہماری مظلومیت کو ثابت کرا دیا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے گورنمنٹ پر مجبت قائم کرنے کے لئے بھی ایک راستہ کھول دیا ہے۔اب اگر ہم یہی الفاظ دوسری قوموں کے لیڈروں کے متعلق استعمال کریں اور ہماری جماعت کے کسی فرد پر گورنمنٹ ان الفاظ کے استعمال کی وجہ سے مقدمہ چلا دے تو اس کا حق ہوگا کہ وہ اپنے مقدمہ کے دوران میں یہی اشتہار عدالت میں پیش کر دے اور کہے صاحب گورنمنٹ نے ان الفاظ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے اور باوجود اس کے کہ گورنمنٹ نے یہ قانون مقرر کیا ہوا تھا کہ فلاں شخص کو قادیان کی حدود کے دومیل کے اندر اندر جلسہ کرنے یا تقریر کرنے کی اجازت نہیں۔پھر بھی اُس سے قادیان کی حدود کے دومیل کے اندر جلسہ کرایا گیا