خطبات محمود (جلد 19) — Page 854
خطبات محمود ۸۵۴ سال ۱۹۳۸ء اور اس موقع پر یہ اشتہا ر لوگوں میں بانٹا گیا۔اب بتائیے جب گورنمنٹ ان الفاظ کو قدر کی نگاہ سے دیکھ چکی ہے تو اگر میں نے ایسے ہی بعض الفاظ کسی اور قوم کے لیڈر کی نسبت استعمال کر لئے تو اس میں حرج کونسا ہو گیا۔تو اب ہمارے لئے اللہ تعالیٰ نے گورنمنٹ پر حجت تمام کرنے کے لئے پہلے سے زیادہ راستہ کھول دیا ہے اور دو باتوں میں سے ایک بات گورنمنٹ کو ضرور ماننی پڑے گی۔یا تو اُسے یہ ماننا پڑے گا کہ یہ الفاظ بہت اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ان سے کوئی فساد کی نہیں ہوتا اور نہ کسی کا دل دُکھتا ہے لیکن اگر کسی غیر مسلم قوم کے بزرگ کو مسلمان کہہ دیا جائے تو کی اس سے اس قوم کا دل بہت دُکھتا ہے یا اسے تسلیم کرنا ہو گا کہ وہ احمدیوں کے لئے اور قانون چلانا چاہتی ہے اور دوسری اقوام کے لئے اور۔گویا گورنمنٹ اگر خاموش رہے گی جیسا کہ وہ اب تک خاموش ہے تو وہ اپنی خاموشی سے یہ اعلان کر دے گی کہ کسی کو مسلمان کہنا تو گالی ہے لیکن وہ الفاظ استعمال کرنے جو اس اشتہار میں استعمال کئے گئے ہیں گالی نہیں۔پس ہمیں گورنمنٹ پر بھی حجت کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک دلیل دے دی ہے اور اب دنیا کی تمام قوموں کے سامنے تم یہ معاملہ رکھ سکتے ہو۔ایک طرف وہ الفاظ لکھ دو جو اس اشتہار میں ہمارے متعلق لکھے گئے ہیں اور دوسری طرف باوا نانک صاحب کے متعلق مسلمان کا لفظ لکھ دو اور اس کی کے نیچے تحریر کر دو کہ گورنمنٹ پنجاب کا یہ فیصلہ ہے کہ ان الفاظ کا استعمال تو گالی نہیں مگر مسلمان کہنا گالی ہے۔پھر خود بخود دیکھ لو گے کہ دنیا کا عظمند اور شریف طبقہ تمہاری تائید کرتا ہے یا گورنمنٹ کی ، تو اگر گورنمنٹ نے اپنے رویہ میں تبدیلی نہ کی تو ہمارے ہاتھ میں وہ اپنے خلاف ایک اور ہتھیار دے گی۔پس ہمارے لئے اس میں رنج کی کوئی بات نہیں بلکہ گورنمنٹ کے خلاف ایک اور دلیل ہمیں مل جائے گی غرض دونوں اطراف کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں دلیل مہیا کر دی ہے۔ہمارے مخالف کے خلاف بھی کہ وہ یہ الفاظ استعمال کرتا ہے اور ابھی اپنے آپ کی کو مظلوم کہتا ہے اور گورنمنٹ کے خلاف بھی کہ یہ الفاظ گورنمنٹ کے نزدیک گالی نہیں۔مگر غیر مسلم اقوام کے کسی بزرگ کو مسلمان کہنا سخت گالی ہے اور اس سے اس قوم کا دل بُری طرح دُکھ جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ جو لوگ اس قسم کے دشمنوں کا جواب دینا چاہیں گے وہ یہ الفاظ کی