خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 837 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 837

خطبات محمود ۸۳۷ سال ۱۹۳۸ء گوامیر وغریب کے ہاں کھانے میں گھی یا مصالحہ اور خوشبو کی کمی بیشی کا امتیاز رہ جائے لیکن کھانا تی ایک ہی نظر آئے گا اور یہ اس مطالبہ کا مذہبی سیاسی پہلو تھا کہ دوئی کی روح کو مٹایا جائے اور یہ احساس نہ رہے کہ دونوں علیحدہ علیحدہ طبقے ہیں اور گو یکجہتی ، اتحاد اور مساوات کی حقیقی روح حکومت کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی مگر اس تحریک کے ذریعہ میں نے کوشش کی ہے کہ وہ زندہ رہے تا جب بھی مسلمان حکومت آئے تو ہم اسے قبول کرنے کیلئے تیار ہوں اور یہ نہ متحد ہو کر لڑنے لگیں کہ ہم یہ نہ ہونے دیں گے کہ چھوٹائی بڑائی کے امتیاز کو مٹا دیا جائے۔آج اگر ہندوؤں کی حکومت قائم ہو جائے تو بجائے اس کے کہ مساوات قائم ہوان میں جو امتیازات ہیں وہ زیادہ شدت اختیار کریں گے لیکن اسلامی حکومت کا قیام مساوات کو صحیح رنگ میں قائم کرے گا اور میری غرض یہ ہے کہ جب تک اسلام کی حکومت دنیا میں قائم نہ ہو مساوات کی روح زندہ رہے۔دوسرا پہلو اس مطالبہ کا اقتصادی تھا۔اس میں میرے مدنظر یہ بات تھی کہ اگر جماعت بغیر بچت کرنے کے چندوں میں زیادتی کرتی جائے گی تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ کمزور ہوتی جائے گی گی یٹی کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس میں کوئی قربانی کرنے کی طاقت ہی نہ رہے گی اس لئے میں نے سوچا کہ ان میں کفایت شعاری کا مادہ پیدا ہو اور جب کفایت کی عادت ہو گی تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اپنے اخراجات میں کمی کر کے چندے دیں گے اور چندوں کیلئے ان کو قرض لینے کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ جب یہ روح ان میں پیدا ہو گی تو وہ کچھ نہ کچھ پس انداز بھی کی کریں گے۔امانت فنڈ کی مضبوطی کا مطالبہ دراصل پس انداز کرانے کے لئے ہی تھا مگر افسوس کی ہے کہ دوستوں نے اس سے پورا فائدہ نہیں اٹھایا، حالانکہ اس کی اصل غرض صرف یہ تھی کہ جماعت کی مالی حالت مضبوط ہو ، وہ اقتصادی لحاظ سے ترقی کرتی جائے اور فضول اخراجات کو محدود کرتی جائے یہ نہ ہو کہ اخراجات کو بدستور رکھے اور جب چندہ کا وقت آئے تو بوجھ محسوس کرے اور جائدادیں فروخت کر کے دے۔اس میں شک نہیں کہ ایسے لوگ بھی ہو تے ہیں ، جن کیلئے جائدادیں فروخت کر کے بھی چندوں کا ادا کرنا ضروری ہوتا ہے مگر یہ وہ لوگ کی ہوتے ہیں جن کی طرف دوسروں کی نگاہیں اٹھتی ہیں اور جنہیں دوسروں کے سامنے اپنا نمونہ پیش کرناضروری ہوتا ہے۔باقی لوگوں کیلئے اخراجات کو کم کر کے ہی دین کی مددکرنا ضروری ہوتا ہے