خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 833 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 833

خطبات محمود ۸۳۳ سال ۱۹۳۸ء ہوتی ہے اور اس وجہ سے جب حکومت کیلئے سیاست کا لفظ بولا جائے تو اسکے اور معنی ہونگے ، مذہب کیلئے اور ، اور تعلیم کیلئے اور معنے ہوں گے۔نادان نادانی یا دشمن دشمنی کی وجہ سے اس کے کوئی اور معنی سمجھ لیتا اور پھر ہم پر اعتراض کرتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہر نظام ایک سیاست کا محتاج ہوتا ہے اور سیاست کے معنی حکمت کے ہوتے ہیں۔جو نظام کے پیچھے عمل کر رہی ہوتی ہے اور یہ معنی میں آج نہیں کر رہا بلکہ آج سے سینکڑوں سال پہلے مسلمان علماء نے ایسی کتابیں کی لکھی ہیں جن میں اس موضوع پر بڑی بڑی بحثیں کی ہیں کہ مذہب میں کس حد تک سیاست کا دخل ہوسکتا ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کتابوں کا مقصد یہ ہے کہ مذہب میں جھوٹ کا استعمال جائز ہے یا یہ کہ حکومت میں مذہب کس طرح دخل دے سکتا ہے بلکہ ان کتابوں میں مضمون صرف فقہ کے بیان ہیں اور فقہی بحثوں کے سوا کچھ نہیں حتی کہ امام ابن قیم نے بھی جو صوفیاء میں بھی اور فقہاء میں بھی چوٹی کے آدمی سمجھے جاتے ہیں اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں لیکن بحث ان میں صرف اس قدر ہے کہ فقہ کی بنیاد کن حکمتوں پر ہے اور کس طرح تبدیل کی ہونے والے حالات کے ماتحت فقہ کے احکام میں بھی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ان باتوں پر بحث کر کے ثابت کیا گیا ہے کہ اسلام میں سیاست ضروری ہے کوئی مسئلہ ایسا نہیں جو یکساں ہی چلتا جائے۔مختلف حالات پیش آمدہ کے ماتحت ان کی نوعیت بھی بدلتی رہتی ہے اور اسی کو کی سیاست کہتے ہیں۔نماز کیلئے وضو کا حکم ہے لیکن اگر کوئی بیمار ہو یا پانی میسر نہ آسکے تو تیم بھی جائز ہے۔اور اگر نہ پانی مل سکے اور نہ مٹی (ایسے بھی مواقع آسکتے ہیں ) تو وہ تیم کے بغیر ہی نماز پڑھ سکتا ہے۔فرض کرو کوئی شخص قید ہے اور کسی نئی بنی ہوئی کشتی میں سمندر میں اسے لے جایا جارہا ہے تو اسے پانی نہیں مل سکتا کیونکہ بڑی کشتیاں بہت اونچی ہوتی ہیں اور ان میں بیٹھ کر سمندر میں وضو نہیں کیا جاسکتا اور مٹی بھی نہیں مل سکتی تو اسے نماز معاف تو نہیں ہوسکتی اس کیلئے یہی حکم ہے کہ وہ بغیر وضوا اور بغیر تیم کے ہی نماز پڑھ لے۔یا کسی کے ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے ہوں۔یوں تو پانی بھی موجود ہو اور مٹی بھی مگر وہ نہ وضو کر سکے نہ تیم تو وہ بغیر اس کے بلکہ سجدہ اور رکوع کے بغیر بھی نماز ادا کر سکتا ہے اور دل ہی دل میں نماز ادا کر سکتا ہے۔تو یہ احکام حالات کے ماتحت متغیر ہوتے رہتے ہیں۔پھر بعض اوقات بعض احکام میں لوگ خرابی پیدا کر دیتے ہیں اور