خطبات محمود (جلد 19) — Page 825
خطبات محمود ۸۲۵ سال ۱۹۳۸ اور ہر سال اتنا چندہ تحریک جدید میری طرف سے منتقل کر لیا جایا کرے میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں اور نہ معلوم کب مر جاؤں یا کیا خبر ہے پھر چندہ دینے کی توفیق ملے نہ ملے اسلئے میں آئندہ سات سال کا چندہ اکٹھا بھجوا دیتا ہوں۔یہ کیسا اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور کس قدر خوش کن نمونہ ہے۔جماعت کے دوست ایسے لوگوں پر جس قدر فخر کریں کم ہے۔اسی طرح اور کئی دوست ہیں جنہوں نے گوسات سال کا نہیں مگر دو دو تین تین سال کا چندہ اکٹھا جمع کرا دیا ہے کہ ممکن ہے مالی لحاظ سے ہم پر کوئی کمزوری آجائے اور ہم اس ثواب میں شریک ہونے سے محروم رہیں اس لئے کی بہتر ہے کہ ابھی سے آئندہ سالوں کا چندہ بھی جمع کرا دیا جائے۔یہی وہ لوگ ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَمِنْهُمْ مِّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مِّن يَنْتَظِرُ یہ کام ایسا شاندار ہے کہ میں سمجھتا ہوں جو لوگ اس تحریک کو کامیاب بنانے میں مدد دیں گے ان کا نام کی اللہ تعالیٰ خاص لوگوں میں لکھے گا کیونکہ اس چندے میں جن لوگوں نے بھی حصہ لیا ہے ان کے کی چندوں سے اشاعت اسلام کے لئے ایک مستقل ریز روفنڈ قائم کیا جائے گا۔پس اس کیلئے کی جتنی قربانی کی جائے تھوڑی ہے اور جس قدر ثواب کی امید رکھی جائے وہ بھی تھوڑی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ تحریک جدید کا کام ان مستقل تحریکات میں سے ہے جن میں حصہ لینے والے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے اسی طرح مستحق ہوں گے جس طرح بدر کی جنگ میں شریک ہونے والے صحابہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں کے مورد ہوئے۔جنگ بدر میں جو صحابہ شامل ہوئے کی تھے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا تھا کہ اِعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَإِنِّى قَدْ غَفَرْتُ لَكُم سے یعنی جو جی میں آئے کرو میں نے تم کو معاف کر دیا۔اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اب تمہارے لئے چوری، ڈاکہ اور شراب کی اور دوسرے ناروا افعال سب جائز ہو گئے ہیں بلکہ یہ مطلب تھا کہ تم نے ایک ایسی نیکی میں حصہ لیا ہے کہ اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ خود تمہارے اعمال کا ذمہ دار ہو گیا ہے اور وہ تمہیں ہر قسم کے بُرے انجام سے محفوظ رکھے گا۔انہی بدری صحابہ میں سے ایک دفعہ ایک صحابی سے ایک سخت غلطی ہوگئی۔انہوں نے مکہ والوں کو یہ خبر لکھ دی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چڑھائی کرتے ہوئے آرہے ہیں حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات مخفی رکھنا چاہتے تھے۔آپ کو اللہ تعالیٰ