خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 810 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 810

خطبات محمود ۸۱۰ سال ۱۹۳۸ اپنے ممالک میں آباد رکھا ہے۔اس کے مقابلہ میں جرمنی ایک سوسال تک بھی یہود کا اپنے اندر رہنا برداشت نہیں کر سکا اور آج بھی اگر عرب فسلطین میں یہود کے داخلہ کے خلاف ہیں تو اس لئے نہیں کہ یہود کو فلسطین میں بسایا کیوں جاتا ہے بلکہ اس لئے کہ انہیں اس رنگ میں بسایا جاتا ہے کہ یہود کی آبادی بڑھ جائے اور مسلمانوں کی آبادی کم ہو جائے اور یہ واقع میں ایک ایسا امر ہے جسے کوئی قوم برداشت نہیں کر سکتی۔ورنہ رہنے کے متعلق جھگڑا نہیں یہود پہلے بھی فلسطین میں رہتے تھے۔اب اگر جھگڑا ہے تو یہ کہ انہیں ایسے رنگ میں بسایا جاتا ہے کہ چند سال میں مسلمان جو پچاسی فیصدی تھے اقلیت میں بدل جائیں اور یہودا اکثریت میں ہو جائیں اور کسی قوم کے لئے یہ برداشت کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ جہاں وہ طاقتور ہو وہاں اسے کمزور کر دیا جائے اور کمزور کو طاقتور بنا دیا جائے۔غرض احمدیت کی ترقی کے ساتھ اسلام کی ترقی اور اسلام کی ترقی کے ساتھ دنیا کی ترقی وابستہ ہے اور احمدیت کی ترقی کیلئے دو کام کرنے نہایت ضروری ہیں۔ایک تعلیم و تربیت کا اور دوسرا تبلیغ واشاعت کا ، ان کے بغیر جماعت نہ پھیل سکتی ہے اور نہ اس کے پھیلنے کا کوئی کچ فائدہ ہے۔یعنی تبلیغ کے بغیر جماعت کی ترقی نہیں ہو سکتی اور صحیح تربیت کے بغیر احمدیت کا پھیلنا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔فرض کرو احمدی ساری دنیا میں پھیل جائیں مگر مذہبی، سیاسی، اقتصادی، تمدنی اور تعلیمی ماحول وہی رہے جو پہلے تھے تو ایسی احمدیت کے پھیلنے کا کیا فائدہ اور اگر احمدیوں میں وہ روح نہ ہو جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے اور ایک ظالم کی بجائے اگر دوسرا ظالم کھڑا ہو گیا تو اس سے بنی نوع انسان کو کیا فائدہ پہنچے گا۔پس تبلیغ اور تعلیم و تربیت دوہی نہایت ہی اہم کام ہیں اور انہی دونوں کاموں کو تحریک جدید میں مد نظر رکھا گیا ہے۔تعلیم و تربیت کو مد نظر رکھتے ہوئے سادہ غذا، سادہ لباس، خود ہاتھ سے کام کرنا ہسینما کا ترک ، غریبوں کی امداد، بورڈ نگ تحریک جدید اور ورثہ وغیرہ کام تجویز کئے گئے ہیں اور یہ تمام باتیں ایسی ہیں جن کی کو کسی وقت بھی ترک نہیں کیا جا سکتا۔بعض تو موجودہ صورت میں ہی ہر وقت قابل عمل رہیں گی اور انہیں کسی صورت میں بھی چھوڑا نہیں جا سکے گا لیکن بعض میں حالات کے ماتحت کچھ تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔عملی طور پر بعض حصوں کے متعلق مجلس خدام الاحمدیہ جد و جہد کر رہی ہے