خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 811 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 811

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ اور جہاں تک اس کے ایک سال کے کام کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس نے نہایت شاندار کام کیا ہے اور اگر وہ اسی طرح استقلال سے کام جاری رکھے اور نہ صرف اپنے موجودہ معیار کو قائم رکھے بلکہ اسے بڑھاتی چلی جائے تو وہ ایک عمدہ نمونہ قائم کر سکتی ہے۔مجالس خدام الاحمدیہ کے نو جوانوں کو یا د رکھنا چاہئے کہ ان کے کام کے اثرات صرف موجودہ زمانہ کے لوگوں تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ اگر وہ اسی خوش دلی اور اخلاص سے کام جاری رکھیں گے تو آئندہ نسلوں تک ان کے نیک اثرات جائیں گے اور جس طرح آج صحابہ کا ذکر آنے پر بے اختیار رَضِيَ الله عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کا فقرہ زبان سے نکل جاتا ہے اسی طرح ان کا نام لے کر آئندہ آنے والی نسلوں کا دل خوشی سے بھر جائے گا اور وہ ان کی ترقی مدارج کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں گے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ جس کام کو شروع کریں اسے استقلال سے کرتے چلے جائیں۔جو شخص بھی اس جدو جہد میں کھڑا ہو گا وہ گر جائے گا اور سلامت وہی رہے گا جو اپنے قدم کی تیزی میں کمی نہیں آنے دے گا۔مجلس خدام الاحمدیہ تحریک جدید کی فوج ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس فوج میں داخل ہو نگے اور اپنی عملی جد و جہد سے ثابت کر دیں گے کہ انہوں نے اپنے فرائض کو سمجھا ہوا ہے۔اس کے مقابلہ میں دوسرا پہلو تبلیغ واشاعت کا ہے اور اس کیلئے وقف زندگی ، وقف رخصت اور دوسرے ممالک میں احمدیوں کے پھیل جانے اور چندہ جمع کرنے کی تحریک کی گئی ہے۔چندے کی تحریک گو جماعت کی تعلیم کی و تربیت کے لحاظ سے بھی ضروری ہے مگر اس کو زیادہ تر تبلیغ کے لئے جاری کیا گیا ہے۔ان میں سے ہر ایک تحریک اپنی اپنی جگہ نہایت اہم اور ضروری ہے اور میں اپنے اپنے موقع پر پھر دوبارہ ان تمام مطالبات کی طرف جماعت کو توجہ دلانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔تیسری چیز جو ان دو مقاصد کے علاوہ ہے اور جو تبلیغ و اشاعت اور تعلیم و تربیت کیلئے مُمد - وہ یہ ہے کہ چونکہ یہ سب کام خدا تعالیٰ کیلئے ہیں اس لئے اس سے دعائیں کی جائیں کہ وہ ہمیں کامیابی عطا فرمائے اور چونکہ بعض دفعہ انسان اپنے جوش میں اور فتح کے نشہ میں اس امر کو بھول جاتا ہے کہ تمام کامیابی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوئی ہے اور اس کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ یہ فتح شاید میری جدو جہد کا نتیجہ ہے اسلئے روزوں کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے