خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 81

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء ہوں۔اگر تم تھک گئے ہو تو مجھے بلا تکلف بتا دینا تا میں اُڑ جاؤں۔بیل نے جواب دیا کہ بھائی ! کی مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ تم بیٹھے کب تھے۔اس سے بھی بدتر حال اُس بندے کا ہے جو خدا تعالیٰ کے مقابلے پر کھڑا ہو جاتا ہے۔وہ مچھر کی طرح بھنبھنا تا اور اس کے بندوں کو ڈنگ مارتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں نے میدان مارلیا۔اور شروع میں بعض کمزور لوگ کچھ گھبراتے بھی ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ خبر نہیں اب کیا ہو گا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتا کچھ بھی نہیں۔چند دن کا ایک شغل ہوتا ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ خود ہی اُس زہر کا تریاق پیدا کر دیتا ہے اور لوگوں کی طبائع میں سکون پیدا ہو جاتا ہے۔چنانچہ جب شیخ مصری صاحب الگ ہوئے تو بعض بڑے بڑے سمجھدار لوگ کہتے تھے کہ اب کیا ہوگا اور معلوم نہیں کتنے لوگ ان کے ساتھ جا ملیں گے۔لیکن اب سوائے چند اشخاص کے جو پہلے سے ہی دل میں ان سے ہمدردی رکھتے چلے آئے ہیں ، کوئی کی نئی جماعت ان کے ہاتھ پر نہیں بنی اور اب تو بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس فتنہ کی طرف اس کی قدر توجہ کی ضرورت نہ تھی۔یہ تو کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا۔پس صداقت کے مقابلہ میں جھوٹ ٹھہر انہیں کرتا اور غلبہ ہمیشہ حق کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ہم غیر احمد یوں ، ہندؤں اور سکھوں میں سے کتنے آدمی جیت کر لائے ہیں۔اگر پانچ سات ہم میں سے الگ ہو گئے تو یہ کوئی ایسی بات نہیں جو دوستوں کیلئے کسی افسردگی کا موجب ہو۔فتح بہر حال احمدیت کی ہوگی۔میں نے بچپن میں ایک خواب دیکھا تھا کہ مدرسہ احمد یہ والی گلی میں احمدیوں اور غیر احمدیوں میں کبڈی کا میچ ہو رہا ہے۔غیر احمدیوں کے سردار مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں۔میری عمر اُس وقت گیارہ بارہ سال کی تھی اور میں نے مولوی محمد حسین صاحب کو دیکھا ہوا نہیں تھا اور جب بعد میں دیکھا تو ان کی جسمانی وضع بالکل ویسی ہی پائی جیسی خواب میں دیکھی تھی۔سفید انگر کھانے پہنا ہوا تھا اور پگڑی تھی۔تو میں نے دیکھا کہ ایک طرف پانچ سات احمدی ہیں اور دوسری طرف سینکڑوں غیر احمدی ہیں۔مگر ان کی طرف سے جو کبڈی کہتا ہوا ادھر آتا ہے احمدی اسے پکڑ کر بٹھا لیتے ہیں۔کبڈی وہ ہے جسے پنجابی میں چھل کہتے ہیں۔پس جو غیر احمدی احمدیوں کی طرف آتا ہے احمدی اسے پکڑ لیتے ہیں اور جب اس کا دم ٹوٹ جاتا ہے اسے ایک طرف بٹھا دیتے ہیں۔گویا انہوں نے اس شخص کو جیت لیا ہے۔کبڈی کی کھیل کی اصطلاح میں