خطبات محمود (جلد 19) — Page 82
خطبات محمود ۸۲ سال ۱۹۳۸ء اسے مرجانا کہتے ہیں۔آہستہ آہستہ میں نے دیکھا مقابل کے سب آدمی ہی احمدیوں نے جیت لئے ، صرف مولوی محمد حسین صاحب رہ گئے۔جب انہوں نے دیکھا کہ سب لوگ ادھر چلے گئے ہیں تو انہوں نے دیوار کی طرف منہ کر کے آہستہ آہستہ چلنا شروع کیا اور حد فاصل لکیر کے پاس آکر آہستہ سے قدم اس طرف رکھ دیا اور کہا کہ اچھا جب سارے آگئے ہیں تو میں بھی آجاتا ہی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مولوی محمد حسین صاحب کے رجوع کرنے کے متعلق جو لکھا ہے اس کے مطابق مولوی صاحب نے آخری عمر میں اپنے رویہ میں تبدیلی کرلی تھی۔اپنے لڑکے بھی یہاں تعلیم کیلئے بھیج دیئے تھے۔مجھے بھی بٹالہ میں ایک دفعہ ملنے آئے تھے اگر چہ ندامت کی وجہ سے اس کمرے میں سے صرف گزر گئے اور مجھ سے کلام نہیں کیا۔لیکن آئے اسی غرض سے تھے کہ مجھے ملیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ تحریر فرمایا ہے اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آخر میں مولوی صاحب جیسے کفر باز مولوی بھی تو بہ کر لیں گے۔کیونکہ ائمہ سے مراد بعض دفعہ ان کے اتباع بھی ہوتے ہیں اور بعض دفعہ ان کے مثیل لوگ بھی کی ہوتے ہیں۔پس میری خواب کی تعبیر یہ ہو سکتی ہے کہ جس وقت غیر احمدی بکثرت جماعت میں داخل ہو جا ئیں گے اس وقت یہ مولوی لوگ بھی مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے آئیں گے کہ ہم علماء تو پہلے ہی صداقت کو جانتے تھے۔ہم تو اس لئے مخالفت کر رہے تھے کہ تا لوگوں میں کچھ بیداری کی پیدا ہو۔تو میں نے بتایا ہے کہ جمعہ کی غرض اتحاد کا قیام ہے۔بعض نادان یہ خیال کرتے ہیں کہ سیاسی اتحاد صرف ان اقوام کیلئے ضروری ہوتا ہے جن کے ہاتھ میں حکومت ہو حالانکہ یہ صحیح نہیں۔بلکہ روحانی جماعتوں میں تو یہ زیادہ ضروری ہوتا ہے۔دوسری چیز جس میں جمعہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ تبلیغ ہے۔اگر ہماری جماعت تبلیغ میں لگی رہے تو چند سالوں میں جماعت میں نمایاں ترقی ہوسکتی ہے۔پھر اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ افرادِ جماعت کیلئے علمی ترقی کا موقع کی پیدا ہوتا رہتا ہے میں نے دیکھا ہے کہ قادیان کے لوگ چونکہ اکٹھے رہتے ہیں اور مخالفانہ اعتراضات سننے کا موقع ان کو نہیں ملتا اس لئے ان میں سے ایک طبقہ ایسا ہے کہ علمی لحاظ سے وہ بالکل کورے ہیں اور ان میں سے اچھے اچھے پڑھے لکھے لوگوں کو وہ عام مسائل بھی معلوم نہیں کی