خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 795 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 795

خطبات محمود ۷۹۵ سال ۱۹۳۸ء ذمہ دار افسروں نے اس وقت ہمارے آدمیوں سے کہا تھا کہ بعض موقعوں پر ہم سمجھتے ہیں کہ احرار زیادتی کر رہے ہیں۔مگر کوئی اقدام کرنے سے پہلے ہمارے لئے یہ دیکھنا بھی تو ضروری ہے کہ ہمارے اقدام کے نتیجہ میں عام مسلمانوں پر کیا اثر ہوگا۔تو یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار دشمن بھی نہیں کر سکتا۔لاہور کے تمام مسلمان اخبارات باقاعدہ اس بات کو پیش کرتے اور اس کے متعلق مضامین لکھتے رہتے ہیں بلکہ ہمارے صوبہ کی سب سے بڑی طاقت یعنی یونینسٹ پارٹی جو بر سر حکومت ہے اور جسے قانون کے لحاظ سے حاکم اور بادشاہ کہنا چاہئے وہ خود اسی نتیجہ کی سب سے بڑی شاہد ہے گو مجھ سے ایک ڈپٹی کمشنر نے بات کرتے وقت کہا کہ برطانوی گورنمنٹ فلاں چیز کی برداشت نہیں کر سکتی مگر یہ کہتے ہوئے معاً انہیں خیال آیا کہ ہم دعوے تو اور کرتے رہتے ہیں اور میں نے اس موقع پر کیا کہہ دیا ہے اس لئے وہ یہ فقرہ کہتے ہی کہنے لگے آپ اس کو سلف گورنمنٹ کہہ لیں۔یعنے موجودہ سلف گورنمنٹ برطانوی حکومت ہی ہے صرف اس کا نام بدل دیا گیا ہے۔یہ اس ڈپٹی کمشنر کے قول کا مطلب واقع میں ہے یا نہیں ، یہ یونینسٹ گورنمنٹ کی جانے۔بہر حال ہمیں بتایا یہ جاتا ہے کہ اس وقت یونینسٹ گورنمنٹ حکومت کر رہی ہے اور یہی یونینسٹ گورنمنٹ اس نتیجہ کی سب سے بڑی شاہد ہے۔کیونکہ اسے شکست دینے کے لئے احرار نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور اس کے کم سے کم دو درجن ممبر ایسے ہیں جو ہماری مدد سے باوجود احرار کی مخالفت کے کامیاب ہوئے تھے۔دوسری شکست احرار کو نمایاں طور پر یہ ملی کہ قادیانی کے متعلق انہوں نے یہ مشہور کر رکھا تھا کہ ہم نے اسے فتح کر لیا ہے اور قادیان کے علاقہ میں احمد یوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں مگر خدا تعالیٰ نے ان کے اس دعوی کی تردید کا بھی سامان مہیا کر دیا۔گو ہمارے بعض آدمی اس حکمت کو نہیں سمجھے اور انہوں نے بغیر سوچے سمجھے یہ اعتراض کی کر دیا کہ جماعت کا روپیہ برباد کیا گیا ہے حالانکہ روپیہ تو آنے جانے والی چیز ہے۔آج آتا ہے اور کل ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔یہ نہ کسی انسان کے پاس رہا ، نہ کسی قوم کے پاس رہا ، نہ کسی ملک کے پاس رہا، ایک زمانہ میں ایک قوم دولت مند ہوتی ہے اور دوسرے زمانہ میں دوسری قوم دولت مند ہو جاتی ہے۔ایک زمانہ میں ایک ملک دولت مند ہوتا ہے اور دوسرے زمانہ میں دوسرا ملک دولت مند ہوتا ہے۔پس روپیہ آتا اور چلا جاتا ہے مگر جو چیز رہ جاتی ہے وہ