خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 796 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 796

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء نام اور شہرت ہوتی ہے۔آخر غور کرو کہ وہ ساری دنیا کی حکومت جو مسلمانوں کے پاس تھی وہ اب کہاں ہے ، وہ خلافت جس کے ذریعہ حضرت ابو بکر حکومت کرتے تھے کہاں ہے ، وہ حکومت جو حضرت عمرؓ کو حاصل تھی وہ کہاں ہے۔وہ شوکت اور عظمت جو حضرت عثمان اور حضرت علی کو حاصل تھی وہ کہاں ہے، وہ دبدبہ اور وہ رعب جو صحابہ کو حاصل تھا وہ اب کہاں ہے، وہ ملک چلے گئے ،حکومت جاتی رہی مگر جو چیز آج بھی موجود ہے وہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ کا سرٹیفکیٹ ہے تو ملکوں کے ہاتھ سے نکل جانے نے انہیں نقصان نہیں پہنچایا کیونکہ جو ان کی عزت کی تھی وہ آج بھی قائم ہے جب ملک ان کے پاس تھا تب بھی وہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ کے القاب کے مستحق تھے اور جب ملک نہیں رہا تب بھی انہیں رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ کہا جاتا ہے۔گویا اصل قیمتی چیز رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ کا خطاب ہی ہے نہ کہ روپیہ یا جائداد یا حکومت اور بادشاہت۔تو روپیہ کی ایک آنی جانی چیز ہے مگر بعض لوگ حکمتوں کو نہیں سمجھتے اور چونکہ ان کے دماغ چھوٹے ہوتے ہیں کہ اس لئے وہ بعض دفعہ کسی روپیہ کے خرچ کر دیئے جانے پر اعتراض کرتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اس کے نتیجہ میں جماعت کی عزت کس قدر قائم ہو گئی۔اب جو چیز میرے سامنے تھی وہ یہ تھی کہ قادیان کے متعلق دشمن نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ ہم نے اسے فتح کر لیا ہے اور احمدیوں کو بالکل کچل کر رکھ دیا گیا ہے۔یہاں بیٹھے ہوئے ایک شخص اس اعتراض کو معمولی خیال کرتا ہے مگر سارے ہندوستان کو مدنظر رکھتے ہوئے بنگال ، بمبئی ، مدراس، یوپی، بہار، سندھ، صوبہ سرحد میں جو احراری پرو پیگنڈا جماعت احمدیہ کی موت کی نسبت کیا جا رہا تھا وہ ہماری تبلیغ کے راستہ میں بہت بڑی روک بن رہا تھا بلکہ دور کیوں جاؤ خود پنجاب کے دوسرے علاقوں میں یہ بُرا اثر پیدا کر رہا تھا اور لوگ خیال کرنے لگے تھے کہ شاید یہ لوگ سچ ہی کہہ رہے ہیں اور اب جماعت احمد یہ ختم ہو رہی ہے اور اس اثر کا دور کرنا نہایت ضروری تھا۔پس میں نے چاہا کہ اس علاقہ میں احرار کا ممبری کیلئے کھڑا ہونا ایک خدا تعالیٰ کا پیدا کردہ موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونے دینا چاہئے اور ہمیں چاہئے کہ ہم اس موقع پر دنیا کو بتا دیں کہ اس علاقہ میں ہماری طاقت با وجود اقلیت ہونے کے ان سے زیادہ ہے اور اس خیال سے میں نے احمدی امیدوار، باوجود ہمارے بعض دوستوں کے شدید اصرار کے کہ ایسا نہ کیا جائے کھڑا کیا اور یہی جواب دیا کہ اس وقت ہمارے لئے