خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 788 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 788

خطبات محمود ۷۸۸ سال ۱۹۳۸ء۔تیسرا مقام جہاں احمدیت ترقی کر رہی ہے اور جہاں اسے سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے عرب ہے۔جس کے ساتھ فلسطین بھی شامل ہے۔فلسطین میں ایک گاؤں احمد یہ جماعت کا مرکزی ہے یعنی وہ قریباً سب کا سب احمدی ہو چکا ہے۔اس کے علاوہ احمدی جماعتیں مصر اور شام میں ہیں۔فلسطین کے جس گاؤں کا میں نے ذکر کیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی جماعت ہے جو عملی طور پر احمدیت کو اپنی زندگی میں داخل کر رہی ہے۔انہوں نے اپنے مدر سے بھی جاری کر رکھے ہیں، لٹریچر بھی شائع کرتے ہیں، روپیہ خرچ کرتے ہیں ، گویا تیسرا ملک عرب ہے۔جس میں شام اور فلسطین وغیرہ بھی شامل ہیں جو احمد بیت کی روح کو اپنے اندر داخل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پھر تعداد کے لحاظ سے گوا بھی علمی لحاظ سے نہیں مغربی افریقہ کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہاں اس وقت تک پچاس ساٹھ ہزار احمدی ہو چکا ہے اور احمدیت وہاں وسیع طور پر پھیل رہی ہے اور یہ صرف ہمارے مبلغین کے ذریعہ نہیں بلکہ خودان میں سے جو احمدی ہوئے ہیں وہ آگے جا کر دوسروں کو تبلیغ کرتے ہیں۔ان لوگوں میں کی تعلیم بہت کم ہے اور ایسے لوگوں کو ٹھو کر بھی لگ سکتی ہے بعض کو دوسرے لوگ دھوکا بھی دے سکتے ہیں مگر باوجود تعلیم کی کمی کے وہ لوگ بہت کام کر رہے ہیں۔ان کے مدر سے جاری ہیں ، اشتہارات شائع ہوتے ہیں، کئی نوجوان اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں، کئی ایسے ہیں کہ جنہوں نے چھ چھ ماہ تبلیغ کے لئے وقف کئے اور سینکڑوں میلوں کے پیدل سفر کر کے تبلیغ کیلئے گئے اور نئی جماعتیں قائم کیں۔ہندوستان میں بیٹھے ہوئے لوگ یہ اندازہ نہیں کر سکتے کہ غیر ممالک میں کیا کام ہو رہا ہے یہاں تو بعض لوگ احمد یہ جماعتیں قادیان منگل اور بھینی میں ہی کی سمجھتے ہیں۔ان کی آنکھوں کے سامنے وہ لڑائی نہیں جو غیر ممالک میں لڑی جا رہی ہے اور جس میں ہمارے مجاہد نو جوان اپنا خون اور پانی ایک کر رہے ہیں اور احمدیت کے جھنڈے کو بلند کر رہے ہیں۔بے شک ان ممالک میں سے کوئی روپیہ یہاں نہیں آتا یا کم آتا ہے۔مگر اس کی کی یہ ہے کہ میں نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ بیرونی ممالک کی جماعتوں کے چندہ کا ۷۵ فیصدی امی طور پر خرچ کیا جائے اور صرف ۲۵ فیصدی یہاں آئے اور جہاں ضرورت ہوسو فیصدی ہی وہاں خرچ کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے لیکن اس لڑائی میں ہمیں یہاں سے روپیہ نہیں