خطبات محمود (جلد 19) — Page 781
خطبات محمود ۷۸۱ سال ۱۹۳۸ تو جوں جوں یہ طاقت میں بڑھتی جائے گی اس کی مخالفت بھی بڑھتی جائے گی یہاں تک کہ وہ دن آجائے گا کہ دنیا کی آخری لڑائی اس سوال پر لڑی جائے گی کہ دنیا میں احمدیت رہنی چاہئے یا دوسرے خیالات۔پس اس کی حفاظت کیلئے پہلی ضروری چیز تو یہ ہے کہ ہم اسے پھیلا دیں تا اگر اکثر حکومتیں بھی اسے مٹا دیں تب بھی ایسی جگہیں باقی رہ جائیں جہاں احمدیت پوری شان کے ساتھ قائم ہو اور ترقی کی طرف قدم اٹھا سکے۔دوسرے اسے زمانہ کے لحاظ سے قائم کرنا ضروری ہے اگر ہم اسے ساری دنیا میں پھیلا دیں لیکن ہماری آئندہ نسلیں احمدیت پر مضبوط نہ ہوں تو ہماری ساری محنت رائیگاں جائے گی۔پس صرف دنیا تک اس کو پہنچا دینا ہی ہمارا کام نہیں بلکہ آئندہ نسلوں میں اس کا قائم کرنا چ بھی ہے۔ہمارا ایک حملہ مقام پر ہونا چاہئے اور دوسرا زمانہ پر۔مقام کے لحاظ سے اسے گوشہ گوشہ میں پہنچا دینا ضروری ہے اور زمانہ کے لحاظ سے آئندہ نسلوں تک۔اگر ہم اسے ساری دنیا میں پہنچا دیں مگر آئندہ نسلوں میں اسے مضبوطی سے قائم نہ کریں تو وہ ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی شخص قطب صاحب کے مینار سے بھی دس گنا اونچا مینار بنالے لیکن جس دن وہ کھڑا ہو اس سے اگلے روز وہ گر جائے۔پس ہمارا فرض ہے کہ اسے نہ صرف مقام کے لحاظ سے بلکہ زمانہ کے لحاظ سے بھی مضبوط کریں اور اسے سینکڑوں ہزاروں سالوں تک پھیلانے کا انتظام کریں اور اس عظیم الشان کام کو دیکھتے ہوئے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس کیلئے عظیم الشان جد و جہد کی ضرورت ہے جو بیدار کرنے والوں سے مستغنی ہو، جو بیداری دھماکوں سے پیدا ہو وہ بھی کیا بیداری ہے جا گنا وہی مفید ہوتا ہے جو انسان جاگتا اور پھر جاگتا ہی رہتا ہے۔جو بیدار ہوتا اور پھر سو جاتا ہے، وہ افیونی کی طرح ہے۔دھماکوں سے بیدار ہونا اور پھر سو جانا بہت بڑا مرض ہے اور مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کی بیداری اس وقت تک دھماکوں کی بیداری ہے۔تحریک جدید کے شروع میں میں نے جماعت کو اس طرف خاص طور پر متوجہ کیا تھا۔مگر افسوس ہے کہ اس سبق کو جماعت نے یاد نہیں کیا۔جب تحریک جدید کا اعلان کیا گیا ہے اس وقت جماعت میں ایسی بیداری پیدا ہو چکی تھی کہ میں نے حالات کا صحیح اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے