خطبات محمود (جلد 19) — Page 780
خطبات محمود ۷۸۰ سال ۱۹۳۸ء کے ایسے ایسے ماہر دنیا میں موجود ہیں جو ہمارے علماء کو برسوں پڑھا سکتے ہیں لیکن یہ ایک قشر ہیں۔ایک مکان جب تیار کیا جاتا ہے تو اس کے باہر سفیدی کرنے اور پھول اور بیل بوٹے بنانے والے بھی مفید کام کرنے والے ہوتے ہیں لیکن اگر عمارت بنانے کے بعد اس میں رہنے والے میسر نہ ہوں تو وہ عمارت کسی کام کی نہیں۔تغلق خاندان کے ایک بادشاہ نے ایک نیا شہر آباد کیا تھا اور وہ لوگوں کو جبراً وہاں لے گیا مگر دوسرے سال لوگ پھر وہاں سے بھاگ آئے اور وہ اُجاڑ ہو گیا۔تو جب تک قرآن کریم کا مغز اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حقیقی روح نہ ہو کسی کی میں خالی علم کا ہونا کسی کام کا نہیں۔جہاں تک عرفان کا تعلق ہے وہ جاہل ہیں اور ہمارے جاہل بھی ان سے زیادہ عالم ہیں۔اگر دولت صرف روپوں اور پونڈوں کا نام نہیں اور یقینا نہیں تو کی ہمیں وہ خزانہ ملا ہے جس کے مقابل میں دنیا کے سب خزانے بیچ ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ اس خزانہ کو محفوظ رکھیں۔کسی شخص کی جیب میں اگر دس بیس روپیہ کے نوٹ ہوں تو وہ بار بار جیب پر ہاتھ مارتا ہے۔دو چار سو روپیہ ہو تو بڑی احتیاط سے اس کی نگرانی کرتا ہے، پچاس ساٹھ ہزار یا لاکھ دو لاکھ ہو تو اسے بنکوں میں محفوظ کرتا ہے۔جس کے پاس لاکھوں روپیہ ہو اس کی نیند بھی حرام ہو جاتی ہے اور کروڑوں کا مالک تو تو اپنی زندگی کا مقصد اس کی حفاظت ہی سمجھتا ہے۔کہنے کو تو وہ اس کا مالک ہوتا ہے لیکن حقیقتاً وہ اس دولت کا چوکیدار ہوتا ہے۔تو جس قوم کو ایسی عظیم الشان دولت ملی ہو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس کی ذمہ داری کتنی بڑی ہے۔اس ذمہ داری کو پورا کرنے کیلئے دو اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔اول تو جگہ کے لحاظ سے ہمارا فرض ہے کہ اسے پھیلا دیں کیونکہ اس کا ایک جگہ رہنا بہت خطرناک ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ کل کو کوئی ایسی حکومت نہیں آئے گی جو اسے مٹانے کے درپے ہو اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اسے اس طرح پھیلا دیں کہ اگر دس ہیں، چالیس، پچاس ، نوے، پچانوے بلکہ نناوے فیصدی حکومتیں بھی اسے مٹانا چاہیں تو ایک نہ ایک ٹھکانہ ضرور ایسا ہو جہاں احمدیت آزادی کے ساتھ اپنے خیالات پھیلا رہی ہو۔سچائی کبھی مخالفت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی اور اس لئے جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ ہم مخالفت کے بغیر ہی کامیاب ہو جائیں گے وہ غلطی خوردہ ہے۔اگر یہ صحیح ہے کہ احمدیت ایک روحانی طاقت ہے