خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 774 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 774

خطبات محمود ۷۷۴ سال ۱۹۳۸ء غرض حیات مسیح کا مسئلہ ایک اہم مسئلہ ہے ، مگر اس کی حیثیت ایک کھنڈر سے زائد نہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اگر ہم اس ملبہ کو ہٹا کر خاموش ہو جائیں اور اس کی جگہ پر نئی عمارت نہ بنائیں تو اللہ تعالیٰ پر یہ الزام آتا ہے کہ اس نے صرف ملبہ کو ہی ہٹانا تھا تو پھر تیرہ سو سال میں کیوں نہ کی ہٹایا۔اللہ تعالیٰ کے اتنا عرصہ خاموش رہنے میں ایک ہی حکمت تھی کہ اس جگہ پر نئی عمارت کی تعمیر کا وقت ابھی نہ آیا تھا لیکن اب اگر ہم اس نئی عمارت کی تعمیر کو نظر انداز کر دیں تو اللہ تعالیٰ پر ضرور یہ الزام آئے گا کہ وہ اتنا عرصہ کیوں خاموش رہا۔پس نئی عمارت کا بنایا جانا زیادہ اہم ہے اور وہی دین در اصل مقصود ہے۔وفات مسیح کا مسئلہ گواہم ہے مگر یہ ضمنی ہے۔یہ ہمارے راستے میں آ گیا اس لئے اسے حل کر لیا گیا ورنہ شاید اتنی توجہ اس کی طرف نہ کی جاتی۔اصل مسائل اور ہیں اور وہی امانتیں ہیں جو ہمارے سپرد کی گئیں۔وہ ان مسائل میں سے ایک تو فہم قرآن ہے۔جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ دنیا میں قائم کیا اور وہ قرآن کریم جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: شهرُ رَمَضَات الذي انزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَتِن مِّنَ الهُدى وَالْفُرْقَانِ جاوه قرآن جو ہدایتوں اور نشانات کا مجموعہ ہے، جو جھوٹ اور سچ میں فرق اور امتیاز کر دینے والا ہے، جو نور اور تاریکی میں فرق کر دینے کا واحد ذریعہ ہے ، وہ جو خدا تعالیٰ تک انسان کو پہنچاتا ہے اس کا علم اور فہم مٹ گیا تھا مسلمان اسے بھلا چکے تھے۔اس کا کچھ درجہ تو احادیث کو دے کی دیا گیا تھا۔ان احادیث کو جو اگر کچی ہوں تو بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کلام ہیں مگر موجودہ وقت میں ان میں وضعی بھی ہیں ، ان میں انسانی خیالات کا اثر بھی ہے۔ایک بات کو دس آدمی سنتے اور نوٹ کرتے ہیں مگر سب میں کچھ نہ کچھ اختلاف ہو جاتا ہے۔نوٹ کرتے وقت انسان پوری احتیاط کے باوجود بھی غلطی کر جاتا ہے۔راوی خواہ کتنے بچے ہوں لیکن اگر بات سنتے سنتے کسی کا خیال کسی اور طرف چلا جائے اور کوئی حصہ رہ جائے تو غلطی کا ہو جانا بعید نہیں۔پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض راوی بات کو سمجھ ہی نہ سکے ہوں ، پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سننے والے آگے جن سے بیان کریں وہ اچھی طرح سمجھ نہ سکے ہوں یا کسی وقت ان کا دماغ کسی اور طرف متوجہ ہو جائے اور یہی سلسلہ پانچ سات آدمیوں تک چلتا جائے تو اس کے نتیجہ میں کی