خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 772 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 772

خطبات محمود ۷۷۲ سال ۱۹۳۸ء پہلی اور دوسری صدی میں ہمیں ایسے علماء نظر آتے ہیں جو بالوضاحت اور بالبداہت اس عقیدہ کے خلاف اعلان کرتے ہیں مگر جوں جوں زمانہ گزرتا گیا ایسے لوگ کم ہوتے گئے۔حتی کہ آخری زمانہ یعنی پانچویں اور چھٹی صدی سے یہ مسلمانوں کے اندر ایسے طور پر قائم ہو گیا کہ گویا اسلام کا جزو ہے۔کیا مصر اور کیا سپین ، کیا مراکش اور کیا الجزائر ، کیا شام اور کیا اناطولیہ اور کیا فلسطین، عرب، عراق، ایران، بخارا، افغانستان ، ہندوستان، فلپائن ، سماٹرا اور جاوا میں کوئی اسلامی ملک ایسا نظر نہیں آتا جس میں یہ مسئلہ پورے طور پر قائم نہ ہو دنیا کا ہر مسلمان اس میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ بڑا اہم مسئلہ ہے اور شرک ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ جو شرک چھ سو سال تک اسلامی دنیا پر اس طرح چھایا رہا جس نے پہلی ہی صدی میں اپنی شکل دکھانی شروع کی اور برابر زور پکڑتا گیا اللہ تعالیٰ کیوں اس کے مٹانے سے غافل رہا ؟ کیوں نہ اسے دور کیا گیا اور کیوں اس کی اہمیت کو اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے منہ سے ہی ظاہر کرایا اور کیوں وہ دلائل جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کی ثابت ہوتی ہے۔آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ظاہر فرمائے ؟ ذرا سی عقل اور سمجھ رکھنے والا آدمی بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ اس زمانہ میں اس مسئلہ پر بحث کا کوئی فائدہ نہ تھا کیونکہ اس کھنڈر کے گرانے کے بعد نئی عمارت بنانے کا کوئی موقع نہ تھا۔حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے ساتھ جو اصل مقصود وابستہ ہے وہ یہ ہے کہ اس امت میں پیدا ہونے والے مسیح کے لئے راستہ صاف کیا جائے اور چونکہ اس کا موقع نہ تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی غلطی کو چھوڑ دیا اور اس کا علاج اپنے ہاتھ میں نہ لیا بلکہ انسانوں کے دماغ پر اسے چھوڑ دیا کہ خود سوچیں۔قرآن کریم میں ایسی آیات جن سے وفات مسیح ثابت ہوتی ہے موجود تھیں ، اسی طرح ایسی احادیث بھی موجود تھیں جن سے وفات مسیح ثابت ہوتی تھی ، وہ آثار صحا بہ موجود تھے جن کی سے حیات مسیح کا مسئلہ باطل ہوتا تھا، اسی طرح عقل جو اس کو رد کرتی ہے وہ بھی انسانی دماغوں کی میں موجود تھی اور اگر انسان چاہتا تو اس کا رد کر سکتا تھا۔پس اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں خود اس کا رڈ نہیں کیا اس نے کہا کہ ہم نے قرآن کریم میں اس مسئلہ کو اچھی طرح واضح کر دیا کہ ہے۔آیات قرآنیہ پر غور کرو، اپنے رسول سے اس کی حقیقت کو ظاہر کر وا دیا ہے اس کی احادیث کی