خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 771 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 771

خطبات محمود 221 سال ۱۹۳۸ء گرا دے تا نئی عمارت کے لئے جگہ صاف ہو سکے۔تحریک جدید کے پہلے دور کی غرض یہ تھی کہ دشمنانِ احمدیت کے اس حملہ کو توڑا جائے جو انہوں نے احمدیت کو تباہ کرنے کی نیت سے کیا تھا تو مگر صرف میدان کو صاف کر لینا کوئی بڑی چیز نہیں۔جب میدان صاف ہو جائے تو اصل غرض اس پر عمارت کا قیام ہوتا ہے سواگر ہم صرف پرانی عمارت کو صاف کر کے اس کی جگہ نئی عمارت کے قیام سے غافل رہتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے کچھ بھی نہیں کیا۔کھنڈر کو صاف کرنا کوئی بڑا کام نہیں بلکہ بعض اوقات نقصان دہ ہوتا ہے اس لئے کہ کھنڈر بھی اپنے اندر سامان عبرت رکھتے ہیں۔ایک نئے نظام کیلئے پرانے عبرت کے سامان کو اگر ہم مٹا دیں تو یہ کوئی بُری بات نہیں لیکن اگر کوئی نیا نظام تو قائم نہ کریں اور پرانے عبرت کے سامان کو مٹا دیں تو اس کے بہ معنی ہونگے کہ ہم نے دنیا کو ہدایت کے ایک رستے سے خواہ وہ کتنا ہی مخفی کیوں نہ ہو محروم کر دیا۔غرض خالی کھنڈر کو مٹا دینا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔پس آج میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو گزشتہ خطبہ کے سلسلہ میں ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپر د عظیم الشان امانت کی ہے ایسی عظیم الشان کہ جو بہت ہی کم لوگوں کو دی گئی ہے۔وہ امانت صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے آپ کو احمدی کہہ لیتے ہیں یا وفات مسیح علیہ السلام وغیرہ چند عقائد کو تسلیم کر لیتے ہیں یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کھنڈروں کو گرانا۔حیات مسیح کا عقیدہ دراصل ایک کھنڈر تھا جو اسلامی زمین پر موجود تھا اور وفات مسیح کو تسلیم کرنے کے یہ معنی ہیں کہ ہم نے اس کھنڈر کو ہٹا دیا۔کسی کھنڈر کو اگر ہٹا دیا جائے تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہاں نئی کی عمارت بنائی جائے اور اگر یہ غرض ہماری نظر کے سامنے نہیں یا ہم نے اسے پورا نہیں کیا تو ملبہ یا اینٹوں یا مٹی کے ڈھیر کو ہٹا دینے سے کیا فائدہ اگر دنیا میں وہ نیا نظام قائم نہیں ہوتا جس کے رستہ میں حیات مسیح روک ہے؟ تو اس کو ہٹانے پر اتنی طاقت اور قوت صرف کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔یہ خرابی کوئی نئی نہیں۔معا صحابہ کی وفات کے بعد کیونکہ ان کی زندگی میں کسی غلط عقیدہ کی اشاعت کا کوئی امکان نہ تھا۔لیکن ان کی وفات کے معاً بعد بلکہ ابھی ان میں سے بعض زندہ ہی تھے یعنی پہلی صدی میں ہی مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہونے لگا کہ حضرت عیسی زندہ ہیں اور دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔دوسری صدی میں یہ خیال اور قوی ہو گیا اور تیسری صدی میں قوی تر۔