خطبات محمود (جلد 19) — Page 766
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء اور اگر کسی کے پاس نصف گلاس دودھ کی گنجائش ہے تو نصف گلاس دودھ لے لے گا اور باقی دودھ زمین پر گر جائے گا۔اور اگر کسی کے پاس بہت ہی چھوٹی کٹوری ہے تو اس میں چند گھونٹ کی دودھ پڑ جائے گا اور باقی ضائع ہو جائے گا۔اسی طرح بے شک نماز یکساں فائدہ لاتی ہے، روزہ یکساں فائدہ لاتا ہے، حج اور زکوۃ یکساں فائدہ لاتے ہیں لیکن اگر کسی کا ظرف چھوٹا ہو اور دل ان انوار کو سمیٹ نہ سکے جو نماز روزہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اترتے ہیں تو وہ ضائع کی چلے جائیں گے۔تو اللہ تعالیٰ کے انعامات کا حصول بھی ظرف کے مطابق ہوتا ہے جتنا ظرف کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتا ہے اتنی چیز اس کے ظرف میں پڑ جاتی ہے اور جو زائد ہوتی ہے وہ بہہ جاتی ہے۔یہ ظرف کی وسعت اور تنگی کی حکمت کو سمجھنے اور جڑ کو پکڑنے کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔جیسے جیسے انسان احکام کی حکمت سمجھتا جاتا ہے اس کے دل کا پیالہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور جتنا جتنا وہ احکام کی جڑ کو پکڑتا ہے اتنا ہی اس کے پیالہ میں مضبوطی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے گویا پیالے کی وسعت حکمت کو سمجھنے اور اس کی مضبوطی جڑ کو پکڑنے سے پیدا ہوتی ہے۔حکمت کے سمجھنے سے ظرف وسیع ہوتا ہے اور جڑ کے پکڑنے سے اس میں دوام اور استقلال پیدا ہو جاتا ہے۔جو لوگ احکام کی جڑ کو پکڑ لیتے اور حکمت کو سمجھ لیتے ہیں ان کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ واعظوں کے وعظ سے مستغنی ہو جاتے ہیں۔انہیں ضرورت نہیں ہوتی کہ واعظ آئیں اور انہیں جگائیں یا حادثات آئیں تو انہیں بیدار کریں وہ بغیر واعظوں کے جگانے کے خود ہی ہوشیار ہوتے ہیں اور بغیر حادثات کے بیدار کرنے کے خود ہی بیدار ہوتے ہیں۔تو حکمتوں کو جاننا اور جڑ کو پکڑنا کامیابی کیلئے نہایت ضروری ہوتا ہے۔جب تک انسان کسی کام کی حکمت نہیں سمجھتا اس کے دل میں بشاشت پیدا نہیں ہوتی اور جب تک بشاشت پیدا نہیں ہوتی اُس وقت تک انسان اللہ تعالیٰ کے انوار کو جذب نہیں کر سکتا۔بشاشت در اصل بھوک کا نام ہے اب اگر کسی کا معدہ ضعیف ہو اور اس کے سامنے بہت سا کھانا رکھا ہوا ہو تو چونکہ اس کے اندر کھانے کے لئے بشاشت نہیں ہوگی اس لئے خواہ اس کے سامنے دو چار سیر کھانا پڑا ہوا ہو جب کھانے لگے گا تو چند لقمے کھا کر ہاتھ کھینچ لے گا لیکن ایک دوسر اشخص جسے بھوک لگی ہوئی ہو اس کے سامنے خواہ تھوڑا ہی کھانا پڑا ہوا ہو سب کھانا اس کے