خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 730 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 730

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء مظلوم کی مدد کرو اور دوسرا یہ کہ یہ نہ کرو کہ ظالم پر فتح پانے کے بعد تم اسے لوٹنے لگو ،صرف اتنا کرو کہ مظلوم کا حق اسے دلواؤ۔میں نے اپنی اس کتاب میں اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ لیگ آف نیشنز نے قرآن کریم کے اس حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔یعنی جرمنی کے بعض علاقے اس سے چھین کر دوسروں کو دے دیئے گئے ہیں اور میں نے وضاحت سے یہ لکھ دیا تھا کہ چونکہ یہ قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف کیا گیا ہے اس لئے اس کے نتیجہ میں دنیا میں امن نہیں ہو گا۔پھر یہ شرط رکھی گئی ہے کہ لیگ کی کے کاموں میں فوج استعمال نہیں کی جائے گی میں نے لکھا تھا کہ یہ اصول بھی غلط ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ فوج کے بغیر لیگ کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی اور آج چودہ سال بعد واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ قرآن کریم نے جو بات پیش کی تھی اور جس کے متعلق مجھے یہ فخر ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ ستر قرآنی اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر مجھ پر کھولا ہے ، آخر کچی ثابت ہوئی۔آج جو امن قائم ہوا ہے وہ اسی وجہ سے ہوا ہے کہ فرانس اور برطانیہ نے اپنی افواج کو تیاری کا حکم دے دیا اور ان کو باہر نکالا جس سے فیو ہر رکو یہ خیال ہوا کہ اب سنبھل کر چلنا چاہئے ورنہ لاکھوں جانیں ضائع ہوں گی۔پس آج وہ لیگ کامیاب ہوئی ہے جو قرآن کریم نے پیش کی تھی اور جسے بیان کرنے کی توفیق اللہ تعالیٰ نے مجھے دی تھی ، نہ وہ جو یورپ والوں نے بنائی تھی اور چونکہ قرآن کریم کا یہ اصول برطانیہ کے وزیر اعظم مسٹر چیمبرلین کے ذریعہ پورا ہوا ہے اس لئے انہیں بزدل کہنا غلطی کی ہے۔اگر تو انگریزوں نے زیک حکومت کی بنیا د رکھی ہوتی تو یہ اعتراض ان پر ہوسکتا تھا کہ اسے چھوڑتے کیوں ہو۔مگر انگریزوں نے تو اس وقت بھی اس کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ غیر طبعی تقسیم ہے جن لوگوں سے یہ علاقے چھینے گئے ہیں انہوں نے اگر لڑائی کی تو ہم ذمہ دار نہیں ہونگے اور جو ذمہ دار نہیں اس پر اعتراض کیسا۔ہاں اگر کوئی اعتراض ہو سکتا ہے تو فرانس پر کہ جس نے کی یہ حکومت بنوائی تھی۔اگر بزدلی ہے تو اس کی جس نے پہلے حکومت قائم کرائی اور جب اس کے لئے مصیبت کے دن آئے تو پیچھے ہٹ گیا۔اس کی مثال تو وہی ہے کہ کہتے ہیں کوئی پٹھان تھا جس نے بڑی بڑی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں جیسے فوجی لوگ او پر اٹھا کر رکھتے ہیں وہ بھی رکھتا تھا اور اس