خطبات محمود (جلد 19) — Page 711
خطبات محمود 211 سال ۱۹۳۸ء اور ساری رات تہجد میں لگا ر ہے اور ذکر الہی میں مشغول رہے لیکن اگر اس میں سچائی نہیں تو اس کی کی یہ ساری عبادتیں مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتیں۔تم چندے دے دے کر کنگال ہو جاؤ تمہارے بیوی بچوں کے تن پر کپڑا نہ رہے اور کھانے کو نہ ملے۔پچاس سال سے تم نے اس نیکی میں بھی ناغہ نہ کیا ہو لیکن اگر تمہارے اندر سچائی پیدا نہیں ہوئی تو تمہارے دل میں احمدیت کا ایک ذرہ بھی نہیں۔سچائی پہلی سیڑھی ہے اور جو شخص پہلی سیڑھی پر قدم نہیں رکھتا وہ دوسری پر نہیں پہنچ سکتا۔یا درکھو کہ چند نیکیاں ابتدائی ہیں جب تک وہ حاصل نہ ہوں کچھ نہیں مل سکتا اور ان کے بغیر جو ملے گا وہ ریا، مکر ، فریب، دغا اور دھوکا ہوگا اور سچائی ابتدائی نیکیوں میں سے ہے جب تک یہ حاصل نہیں ہوتی تم اور کوئی نیکی حاصل نہیں کر سکتے جس طرح خدا تعالیٰ پر ایمان کا ہونا نیکی کے لئے ضروری ہے اسی طرح سچائی بھی ضروری ہے۔مؤمن اور غیر مؤمن میں یہی فرق ہوتا ہے کہ مؤمن سچا ہوتا ہے۔کوئی شخص خواہ کتنی نمازیں پڑھے نیکی کی ہر آواز پر فوراً لبیک کہے لیکن اگر وہ سچائی پر قائم نہیں تو اس کی نمازیں بے سود ہیں اور اس کا خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہنا فریب ہے کیونکہ دوسری سیڑھی پر وہی چڑھ سکتا ہے جو پہلی پر چڑھے۔جو پہلی سیڑھی پر قدم رکھے بغیر سمجھتا ہے کہ میں آخری پر پہنچ گیا ہوں وہ پاگل ہے اور اس کا یہ دعوئی ایسا ہی ہے جیسا بعض پاگل بادشاہ کی ہونے کا دعوی کیا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم بادشاہ ہیں۔پاگلوں میں اپنے آپ کو بادشاہ کی سمجھنے والے بھی ہوتے ہیں اور ولی اللہ اور فلاسفر بھی۔میں نے پاگل خانہ دیکھا ہے بعض وہاں ایسے تھے جو مہدی ہونے کے مدعی تھے، بعض اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتے تھے۔میں جب پاگل خانہ دیکھنے گیا تو ایک پاگل نے میرے کان میں آکر کہا کہ میں ایڈورڈ ہفتم ہوں یہاں سیر کے لئے آیا ہوا ہوں مگر آپ یہ بات کسی کو بتا ئیں نہیں جو ڈاکٹر میرے ساتھ تھا اس نے بتایا کہ یہ ہر شخص کو اسی طرح کہتا ہے۔تو کئی پاگل بادشاہ ہونے کے مدعی ہوتے ہیں مگر ہم چونکہ جانتے ہیں کہ یہ پہلی سیڑھی ہی نہیں چڑھا اس لئے اُسے پاگل قرار دیتے ہیں اگر پہلی منازل وہ طے کر چکا ہوتا تو ہم اسے پاگل نہ کہتے۔بادشاہ کے لئے یہ کوئی ضروری تو نہیں کہ وہ بادشاہ کا ہی بیٹا ہو آخر عوام میں سے بھی تو بادشاہ ہوئے ہیں۔نادر شاہ کسی بادشاہ کا بیٹا نہیں تھا بلکہ اس کا باپ گڈریا تھا جب