خطبات محمود (جلد 19) — Page 712
خطبات محمود ۷۱۲ سال ۱۹۳۸ء اس نے ہندوستان کو فتح کیا تو ایک روز دربار لگا ہوا تھا درباریوں نے مشورہ کیا کہ مختلف خاندانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے آخر نادرشاہ سے اس کے خاندان کے متعلق پوچھا جائے اور چونکہ وہ کسی اعلیٰ خاندان سے نہیں اس لئے بہت نادم ہو گا۔چنانچہ اسی رنگ میں گفتگو شروع کی ہوگئی نادرشاہ سمجھ گیا کہ مقصد کیا ہے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ ترقی دیتا ہے انہیں ذہن رسا بھی حاصل ہوتا ہے۔چنانچہ وہ بیٹھا مسکراتا رہا۔آخر بات ہوتے ہوتے اس تک پہنچی اور اس سے پوچھا گیا کہ جناب کے باپ کا نام اور خاندانی حالات کیا ہیں۔اس نے تلوار نکال کر کہا کہ میرے باپ کا نام یہی ہے۔یعنی تم میری تلوار کو دیکھ چکے ہو تمہیں میرے باپ کے نام سے کیا غرض۔میں تمہیں فتح کر کے یہاں بیٹھا ہوں اور جسے ذاتی جو ہر حاصل ہو اُسے والد کے جو ہر کی کیا ضرورت۔بھلا اس بادشاہ کو جو اس وقت نادرشاہ کے غلام کی حیثیت رکھتا تھا۔بابر اور کی ہمایوں کی اولاد میں سے ہونے کا کیا فائدہ پہنچ سکتا تھا اور نادر شاہ کو جس نے تلوار سے فتح حاصل کی کی تھی اس بات سے کیا نقصان ہو سکتا تھا کہ اس کا باپ گڈریا تھا۔تو انسان ذاتی جوہر سے بھی ترقی کر سکتا ہے اس لئے اگر بادشاہ ہونے کا مدعی پہلی سیڑھی طے نہ کر چکا ہو تو اسے پاگل کہا جائے گا لیکن اگر وہ پہلے فتوحات حاصل کرے اور پھر کہے کہ میں بادشاہ ہوں تو سب کہیں گے کہ ہاں حضور بے شک بادشاہ ہیں تو پہلی سیڑھی کے بغیر دوسری کا خیال کرنا جنون ہے۔اسی طرح سچائی پر قائم ہوئے بغیر جو شخص سمجھتا ہے کہ میں مسلمان احمدی ، نیک اور ولی اللہ بن گیا ہوں وہ پاگل ہے کیونکہ وہ کچھ بھی نہیں ہو سکتا جب تک سچائی کو اختیار نہیں کرتا اور اس کے بغیر اگر کوئی روحانی دعوی کرتا ہے وہ یا تو پاگل ہے اور یا پھر دنیا کو دھوکا دیتا ہے۔سچائی ابتدائی نیکی ہے اس کی تعلیم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع نہیں ہوئی بلکہ آپ سے پہلے اس کی تعلیم حضرت عیسی دے چکے تھے اور وہ بھی یہ تعلیم دینے نہیں آئے تھے کیونکہ یہ بات اس سے بھی پہلے حضرت موسیٰ " کہہ چکے تھے اور وہ بھی یہ سکھانے نہیں آئے تھے بلکہ ان سے بھی پہلے حضرت ابرا ہیم یہ بات کہہ چکے تھے اور وہ بھی اس لئے نہیں آئے تھے بلکہ یہ حکم اس سے پہلے حضرت نوح“ بتا چکے تھے اور حضرت نوح بھی یہ بات بتانے کے لئے نہیں آئے تھے کیونکہ ان سے پہلے حضرت آدم اس کا اعلان کر چکے تھے۔