خطبات محمود (جلد 19) — Page 697
خطبات محمود ۶۹۷ سال ۱۹۳۸ء مرد اور عورت بیٹھے ہیں۔مرد میرے سامنے ہیں اور عورتیں پردہ کے پیچھے۔تم میں سے کتنے ہی ہیں جنہیں جب کہا جاتا ہے کہ تبلیغ کرو تو وہ آگے سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم غیر تعلیم یافتہ ہیں۔تم کی مجھے بتاؤ کہ صحابہ میں سے کتنے تعلیم یافتہ تھے۔سارے مکہ میں صرف سات پڑھے لکھے شخص تھے مگر اب جو دین نظر آ رہا ہے یہ انہی ان پڑھوں کی کوششوں اور مساعی کا نتیجہ ہے اور وں کو جانے دو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود ان پڑھ تھے پھر تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ چونکہ ہم اَن پڑھ ہیں اس لئے دین کو سمجھنے اور اس کو پھیلانے کی طرف توجہ نہیں کر سکتے۔پھرمیں باہر کی جماعتوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ مجھے جواب دیں کہ وہ کیا قربانیاں کر رہے ہیں۔ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں سہارا دینا پڑتا ہے مثلاً چندے کا سوال آئے گا تو ایک دفعہ تو چندہ دیں گے مگر پھر دو تین سال بالکل خاموش رہیں گے اور دو تین سال گزرنے کی کے بعد ہمارے پاس آ کر کہیں گے میری توبہ میری تو بہ۔گزشتہ بقایا مجھے معاف کیا جائے آئندہ کی میں با قاعدہ چندہ دیا کروں گا۔پھر انہیں بقایا معاف کر دیا جاتا ہے تو ایک دفعہ چندہ دے دیں گے اور پھر تین چار سال تک کچھ نہیں دیں گے اور جب ان پر اسی طرح تین چار سال اور گزر جائیں گے تو پھر ہمارے پاس آجائیں گے اور کہیں گے میری تو بہ میری تو بہ۔میں بڑا جاہل تھا بڑا بیوقوف تھا، بڑا احمق تھا۔میں نے اتنے عرصہ تک کوئی چندہ نہ دیا۔اب خدا کے لئے مجھے کی پچھلا چندہ معاف کیا جائے۔آئندہ انشاء اللہ اس میں کوئی کوتاہی نہیں ہو گی۔پھر ہم انہیں کی معاف کرتے ہیں تو وہ پھر غافل اور سُست ہو جاتے ہیں۔یہی نمازوں کا حال ہے۔کچھ دن درد سے نمازیں پڑھیں گے مگر پھر ان میں سستی پیدا ہو جائے گی اور بعض تو بالکل نماز ترک کر بیٹھیں گے اور بعض جو پڑھیں گے وہ چٹی سمجھ کر پڑھیں گے۔یہی سچ کا حال ہے۔خطبہ سنیں گے تو کہیں گے لو جی اب ہم ہمیشہ سچ بولیں گے اور کبھی جھوٹ کے قریب بھی نہیں جائیں گے چنانچہ اس کے مطابق وہ دو تین دن سچ کا چوغہ پہن کر پھرتے رہیں گے مگر اس کے بعد وہ سچ کا چوغہ اُتار کر بکس میں بند کر کے رکھ دیں گے۔گویا وہ ڈرتے ہیں کہ یہ اچھا لباس کہیں پہن پہن کر تی خراب ہی نہ ہو جائے۔تو دین کے معاملہ میں استقلال جو کامیابی کی ایک بھاری شرط ہے وہ جماعت میں مفقود