خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 690 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 690

خطبات محمود ۶۹۰ سال ۱۹۳۸ء میں ان کو سچا مانتا ہوں کہ میرے ماں باپ کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ بچے ہیں ؟ یا میں ان کو اس لئے سچا مانتا ہوں کہ مجھ پر دلائل و براہین کی رو سے یہ روشن ہو چکا ہے کہ واقع میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم راستباز رسول ہیں ؟ جب یہ سوال میرے سامنے آیا تو میرے دل نے کہا کہ اب میں اس امر کا بھی فیصلہ کر کے ہٹوں گا۔اس کے بعد قدرتی طور پر خدا تعالیٰ کے متعلق میرے دل میں سوال پیدا ہوا اور میں نے کہا یہ سوال بھی حل طلب ہے کہ آیا میں خدا تعالیٰ کو یونہی عقیدہ کے طور پر مانتا ہوں یا سچ مچ یہ حقیقت مجھ پر منکشف ہو چکی ہے کہ دُنیا کا ایک خدا ہے۔تب اللہ تعالیٰ کے سوال پر بھی میں نے غور کرنا شروع کیا اور میرے دل نے کہا اگر خدا ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم بچے رسول ہیں اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول ہیں اور اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی بچے ہیں تو پھر احمدیت بھی یقیناً کچی ہے اور اگر دنیا کا کوئی خدا نہیں تو پھر ان میں سے کوئی بھی سچا نہیں اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ آج میں اس سوال کو حل کر کے رہوں گا اور اگر میرے دل نے کی یہی فیصلہ کیا کہ کوئی خدا نہیں تو پھر میں اپنے گھر میں نہیں رہوں گا بلکہ فوراً با ہر نکل جاؤں گا۔یہ فیصلہ کر کے میں نے سوچنا شروع کر دیا اور سوچتا چلا گیا۔اپنی عمر کے لحاظ سے میں اس سوال کا کوئی معقول جواب نہ دے سکا مگر پھر بھی میں غور کرتا چلا گیا۔یہاں تک کہ میرا دماغ تھک گیا۔اُس وقت میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اس دن بادل نہیں تھے۔آسمان کا جو نہایت ہی مصفی تھا اور ستارے نہایت خوشنمائی کے ساتھ آسمان پر چمک رہے تھے۔ایک تھکے ہوئے دماغ کے لئے اس سے زیادہ فرحت افزا اور کونسا نظارہ ہو سکتا تھا۔میں نے بھی ان کی ستاروں کو دیکھنا شروع کر دیا۔یہاں تک کہ میں انہی ستاروں میں کھویا گیا۔تھوڑی دیر بعد جب پھر میرے دماغ کو ترو تازگی حاصل ہوئی تو میں نے اپنے دل میں کہا کیسے اچھے ستارے ہیں مگر ان ستاروں کے بعد کیا ہوگا؟ میرے دماغ نے اس کا یہ جواب دیا کہ ان کے بعد اور ستارے ہوں گے۔پھر میں نے کہا ان کے بعد کیا ہوگا ؟ اس کا جواب بھی مجھے میرے دل نے یہی دیا کہ ان کے بعد اور ستارے ہوں گے۔پھر میرے دل نے کہا اچھا تو پھر ان کے بعد کیا ہو گا؟ میرے دماغ نے پھر یہی جواب دیا کہ اُن کے بعد اور ستارے ہوں گے۔میں نے کہا اچھا تو پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ اس کا بھی پھر وہی جواب میرے دل اور دماغ نے دیا کہ کچھ اور