خطبات محمود (جلد 19) — Page 659
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء تھے۔اور یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کوئی ایسا حوالہ بتایا گیا ہو گا جس کی بناء پر آپ نے کی یہ لکھا گو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے میری نظر سے ابھی تک کوئی ایسا حوالہ نہیں گزرا۔بہر حال اگر بعض یہود کا بھی یہ عقیدہ ہو تو بھی اس عقیدہ کو ہم ساری قوم کی طرف منسوب کر سکتے ہیں؟ گومراد اس سے بعض یہود ہی ہوں گے اکثر یہود کا جو عقیدہ ہے وہ یہ ہے کہ وہ نبی جو صلیب پر مارا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے۔نہ یہ کہ جو نبی قتل ہو جائے وہ بھی لعنتی ہوتا ہے گو یا قتل ہونا یا مارا جانا جھوٹے ہونے کی علامت نہیں۔بلکہ صلیب پر مارا جانا جھوٹے ہونے کی علامت ہے۔اور اس کی جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہود کی طرف جو امر منسوب فرمایا ہے یہ تمام یہود کا نہیں بلکہ بعض یہود کا ہے اور میں بتا چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا اسی طرح ذکر کیا ہے۔جس طرح قرآن کریم نے کہہ دیا کہ عیسائی حضرت مریم صدیقہ کو خدا مانتے ہیں۔حالانکہ آج انہیں خدا ماننے والا ایک عیسائی بھی نہیں۔اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے کہ یہود کا یہ عقیدہ ہے کہ عزیر اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے۔اب تم تمام یہودیوں سے پوچھ دیکھو۔وہ کبھی نہیں مانیں گے کہ ان کا یہ عقیدہ ہے۔اس کے متعلق بھی ہمیں پرانی تاریخوں کی چھان بین کرنی پڑتی ہے اور ایک لمبی تلاش کے بعد ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہود کے بعض قبائل یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ حضرت عزیر اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کا ذکر عام رنگ میں کر دیا ہے جی یہ نہیں کیا کہ عام یہود ایسا نہیں مانتے صرف بعض یہود کا یہ خیال ہے کیونکہ اگر ساری قوم میں سے کچھ لوگ بھی غلط راستے پر ہوں۔اور قوم ان کا رد نہ کرے۔تو ساری قوم پر اعتراض عائد ہوتا ہے۔اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ فلاں قوم ایسا کہتی ہے۔ہمارے دعوی کا ایک اور ثبوت بھی موجود ہے۔اور وہ یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام پر یہود نے جب یہ الزام لگایا کہ وہ صلیب پر لٹک کر فوت ہوئے ہیں اور انہوں نے دعوی کیا کہ وہ کی لعنتی موت مرے ہیں۔تو دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے اس کی کتنی تردید کی اور کس طرح بار بار کہا کہ یہود اپنے دعوی میں جھوٹے ہیں۔اگر اس کی وجہ محض یہود کا یہ عقیدہ رکھنا ہوتی۔کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے۔اور محض قتل کی وجہ سے وہ سمجھتے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جھوٹے ہیں تو