خطبات محمود (جلد 19) — Page 649
خطبات محمود ۶۴۹ سال ۱۹۳۸ء پس تعجب یہ ہے کہ غیر احمدی لوگ اپنے عقائد میں بہت سے تناقضات جمع کر رہے ہیں اور اس پر آگاہ نہیں ہوتے۔اس حوالہ سے یہ خیال کیا گیا ہے کہ یہاں خطابیات کے طور پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کے واقعہ کو بیان کیا گیا ہے اور غیر احمدیوں کا عقیدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نقل کر دیا ہے۔کہ چونکہ غیر احمدی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت یحیی علیہ السلام شہید ہوئے تھے اس کی لئے ان پر حجت تمام کرنے اور انہیں ملزم کرنے کے لئے اس عقیدہ کا ذکر کر دیا گیا حالانکہ اس کی میں غیر احمدیوں کا کیا قصور ہے یہ امر تو احادیث میں بیان کیا گیا ہے اور چار پانچ حدیثیں میں ایسی بیان کر چکا ہوں جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ فرمایا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید ہوئے۔اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں چار پانچ ابھی اور بھی ایسی حدیثیں ہوں گی جن میں قتل یحییٰ کا ذکر ہے۔پس جب ہر جگہ حدیثوں میں بلا استثناء حضرت یحیی علیہ السلام کے قتل کا ذکر آتا ہے تو اس عقیدہ کے رکھنے میں غیر احمدیوں کا کیا قصور ہو گیا۔کہ ان پر حجت تمام کرنے اور انہیں ملزم کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا ذکر کر دیا۔حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا جب ذکر آتا ہے تو غیر احمدی بعض ایسی حدیثیں بھی پیش کر دیتے ہیں جن سے وہ سمجھتے ہیں ان کے دعوی کی تصدیق ہوتی ہے۔مگر ہم ایسی حدیثیں پیش کرتے ہیں جن میں آپ کی وفات کا ذکر ہے مثلا یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ایک سو بیس برس کی عمر پائی یا یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَو كَانَ سَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتِّبَاعِی که اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں میری اطاعت کے بغیر اور کوئی چارہ نہ تھا۔پس وہاں چونکہ دونوں قسم کے اقوال موجود ہوتے ہیں اس لئے ہم غیر احمدیوں سے کہتے ہیں تم ان احادیث کو دیکھو جو قرآن کے مطابق ہیں اور ان کو ترک کر دو جو اس کے مطابق نہیں مگر حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق جو حدیث نکلتی ہے اس میں یہی بیان ہوتا ہے کہ وہ شہید ہوئے۔پس اس عقیدہ کا احترام غیر احمدیوں پر کس طرح دیا جا سکتا ہے۔یہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم