خطبات محمود (جلد 19) — Page 646
خطبات محمود ۶۴۶ سال ۱۹۳۸ چلے جا رہے ہیں۔بہتر یہی ہے کہ آپ بھی مقابلہ چھوڑ دیں تو انہوں نے کہا مَنْ اَنْكَرَ الْبَلاءَ فَإِنِّي لَا أُنْكِرُهُ لَقَدْ ذَكَرَمِنِى إِنَّمَا قُتِلَ يَحْى بُنُ زَكَرِيَّا فِي زَانِيَةٍ کے جو شخص مصیبتوں کو نا پسند کرتا ہے وہ بے شک کرے میں تو انہیں نا پسند نہیں کرتا اور مجھے تو یہی بتایا گیا ہے کہ یحیی بن زکریا کو ایک زانیہ عورت کی وجہ سے مارا گیا تھا اگر میں بھی مارا جاؤں تو میرے لئے یہ کون سی بڑی بات ہے۔۔پھر ابن عساکر اور حاکم میں حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کی۔کہ حضرت یحیی علیہ السلام کے قتل کے وقت ستر ہزار آدمی مارا گیا تھا۔اور تیرا ایک بیٹا مارا جائے گا جس کے بدلہ میں ایک لاکھ چالیس ہزار آدمی مرے گا۔۵ تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل پر ہیرڈ کے خلاف خطرناک بغاوت ہوگئی تھی اور فلسطین کی رومی فوج کا ایک بہت بڑا حصہ تباہ ہو گیا تھا اور یہودیوں کا یہ عام عقیدہ تھا کہ کی یہ ہیرڈ کو حضرت یحیی علیہ السلام کے قتل کی سزا ملی ہے اب اس حدیث میں محض خبر نہیں بلکہ حضرت کی ابن عباس کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ وحی کی۔کہ حضرت بیٹی علیہ السلام کے قتل کے وقت ستر ہزار آدمی مارا گیا تھا۔پھر ابن عساکر کی روایت ہے کہ صخرہ بیت المقدس میں ستر نبی مارا گیا ہے۔' جن میں سے ایک حضرت یحیی بن زکریا بھی ہیں میرے نزدیک صخرہ پر مارے جانے کے معنے یہ ہیں کہ بیت المقدس کی تطہیر کی کوشش میں وہ انبیاء مارے گئے تھے۔یہ احادیث صرف حضرت بیٹی علیہ السلام کی شہادت کا ثبوت نہیں بلکہ ان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام بھی شہید ہوئے تھے۔گویا تاریخ جو اس وقت لکھی گئی۔حضرت بیٹی کی قوم کا اپنا بیان، یہود کا بیان، عیسائیوں کا بیان اور احادیث سب ایک طرف ہیں اتنے بڑے مجموعہ کو کس طرح رڈ کیا جا سکتا ہے جب تک گل ان دلائل کو رد نہ کیا جائے جن سے دنیا صیح نتیجہ پر پہنچی ہے اور اگر ہم انہیں رد کر دیں۔تو پھر دنیا میں نفلی طور پر کسی ایک بات کی کا ثابت کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے اور پھر ہماری مثال دیسی ہی ہو جائے گی جیسے کہتے ہیں کہ کوئی بز دل شخص تھا وہ ایک دفعہ کسی لڑائی میں شامل ہوا اور اتفاقاً ایک تیرا سے آلگا۔تیر کی وجہ سے