خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 6

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء لیکچر دے رہا ہے بلکہ اس شخص کو اور اس کے ارد گرد بیٹھنے والوں کو بھی دیکھتا جائے گا اور دنیا تھوڑے ہی عرصہ میں اس قابل ہو جائے گی کہ نہ صرف لوگوں کی آواز میں سنے بلکہ ان کی شکلیں بھی دیکھے اور ان کی حرکات کا بھی مشاہدہ کرے۔پھر ٹیلیفون پر بھی اس قسم کے تجربے شروع ہو گئے ہیں کہ جب کوئی دو شخص ٹیلیفون پر آپس میں گفتگو کرنے لگیں تو معاً ان دونوں کی شکلیں بھی ایک دوسرے کے سامنے آجائیں۔جب اس میں کامیابی ہو جائے گی تو اگر ایک شخص شملہ یا دہلی میں یا کلکتہ میں بیٹھا ہوا قادیان کے ایک شخص سے گفتگو کرے گا تو ادھر وہ بات شروع کریں گے اور ادھر وہ ایک دوسرے کی شکل بھی دیکھنے لگ جائیں گے اور انہیں اس طرح معلوم ہو گا جس طرح وہ دونوں پاس پاس بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔تو وہ جو واہمہ پیدا ہو گیا تھا کہ خدا کس طرح ساری دنیا کو دیکھ سکتا ہے اور کس طرح ساری دنیا کی آوازیں سُن سکتا ہے، اِس ترقی نے اسے دُور کر دیا اور بتا دیا کہ جب معمولی انسان میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی قابلیت رکھی ہے کہ وہ اپنی آواز تمام دنیا کو سنا سکتا ہے اور دنیا کے دوسرے کنارے کے آدمی کی بات کو بآسانی سن سکتا ہے اور نہ صرف آواز سن سکتا ہے بلکہ اس کی شکل بھی دیکھ سکتا ہے، تو کیا خدائے ذوالجلال والقدرة جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے وہ ہر چیز کوہیں دیکھ سکتا اور ہرشخص کی آواز نہیں سن سکتا ؟ اور جب وہ ہر چیز کو دیکھتا اور ہر شخص کی آواز سنتا ہے تو اس کیلئے کسی اور مددگار خدا کی کیا ضرورت رہی۔وہ اکیلا ہی ساری دنیا پر حاوی ہے اور اکیلا ہی سب پر حکومت کر رہا ہے۔پس نشر الصوت کے آلہ نے شرک کے عقیدہ پر ایک کاری ضرب لگائی ہے۔خصوصاً اس شرک کے عقیدہ پر جو فلسفیوں کا پیدا کردہ ہے اور وہی درحقیقت علمی شرک ہے اور اس طرح وائرلیس اور لاؤڈ سپیکر نے خدا تعالیٰ کی طاقتوں کو محدود کرنے والے عقائد کو باطل کر کے رکھ دیا ہے۔پس اس زمانہ میں جبکہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی توحید دنیا میں قائم ہو رہی ہے ، مومن پر جو ان زمانوں میں بھی موحد کہلاتا تھا جبکہ انسان کی عقل ابھی پورے طور پر تیز نہیں تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات کو نہیں سمجھ سکتا تھا بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ہم سے پہلوں نے اُس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان رکھا جبکہ ان کے سامنے اس کی توحید کو ثابت کرنے والے وہ سامان نہ تھے جو آج ہمارے