خطبات محمود (جلد 19) — Page 548
خطبات محمود ۵۴۸ سال ۱۹۳۸ء بیشک میں صدر انجمن احمدیہ سے گزارے کے لئے روپیہ قرض لے لیتا ہوں مگر اسی طرح کی قرض کے طور پر حضرت عمرؓ بھی لے لیتے تھے۔جب حضرت عمر فوت ہوئے ہیں تو بیت المال کا چھتر ہزار رو پیدان کے ذمہ قرض تھا۔اے حالانکہ اس زمانہ میں غنائم کے اموال بھی آیا کرتے تھے۔اور حضرت علیؓ اور حضرت عمرؓ کا حصہ ایک سا ہوتا تھا کیونکہ دونوں ہی بدری صحابہ میں سے تھے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک دفعہ قالین کا ایک حصہ ملا جس کی ہیں ہزار روپیہ قیمت تھی پس یقیناً میں ہزار کا حصہ حضرت عمرؓ کو بھی ملا ہوگا حضرت عمرؓ اور حضرت علی ایک طرف بیت المال سے اپنا گزارہ لیتے تھے اور دوسری طرف غنائم کے اموال میں سے بھی باقی مسلمانوں کی طرح حصہ لیتے تھے۔مگر میں تو گزارہ بھی نہیں لیتا اور جو کچھ میں لیتا ہوں قرض کے طور پر لیتا ہوں۔میری کوشش یہی ہوگی کہ میں اپنی زندگی میں اس قرض کو ادا کروں ورنہ میری جائداد اس قرض کو ادا کی کرے گی۔شروع شروع میں تو میں نے صدر انجمن احمدیہ کے خزانہ سے کچھ بھی نہیں لیا۔نہ قرض کے کی طور پر اور نہ گزارہ کے طور پر اور اس طرح آٹھ دس سال گزر گئے مگر اس کے بعد جب بچے زیادہ ہو گئے اور کام بھی وسیع ہو گیا تو میں نے صدرانجمن سے قرضہ لینا شروع کر دیا۔اس سلسلہ میں صدر انجمن احمدیہ کو بعض بڑی بڑی رقمیں میں نے ادا بھی کی ہیں۔چنانچہ ۱۹۲۹ء میں ایک غیر احمدی نے مجھ سے ایک دعا کرائی جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اس پر اس نے مجھے کی ہیں ہزار روپیہ نذرانہ کے طور پر بھیجا۔جس میں سے گیارہ ہزار میں نے اپنے قرض کے سلسلہ میں صدر انجمن احمدیہ کو دے دیا اور باقی اور قرضوں کی ادائیگی اور دیگر ضروریات پر خرچ کیا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ اموال جو غیر احمدیوں سے مجھے نذرانہ کے طور پر ملے ہیں وہ احمدیوں کے نذرانہ سے بہت زیادہ ہیں۔اس غیر احمدی کا ایک کام تھا اور اس نے مجھے لکھا کہ اگر مجھے اس میں کامیابی ہوگئی تو جو کچھ مجھے نفع ملے گا اس کا دس فیصد آپ کو دوں گا۔چنانچہ اسے دولاکھ کا نفع ہوا جس میں سے ہیں ہزار اس نے مجھے بھیج دیا۔میں نے گیارہ ہزار صدر انجمن احمدیہ کو کی قرضہ میں دے دیا، باقی کچھ رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا، کچھ دیگر قرضوں میں ادا کیا اور کچھ اور اخراجات میں لگا دیا۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جس حد تک میں بوجھ اٹھا سکتا ہوں اٹھاتا ہوں