خطبات محمود (جلد 19) — Page 533
خطبات محمود ۵۳۳ سال ۱۹۳۸ء اور آیا ان کے دلوں میں ایک دن بھی ایمان کبھی داخل نہیں ہوتا۔پھر دوسری قسم منافقوں کی میں کی نے یہ بیان کی تھی کہ بعض لوگ ایمان کی حالت میں ایک مذہب قبول کرتے ہیں مگر بعد میں ان کی کے دلوں میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ مرتد ہو جاتے ہیں۔اس تعریف کے ماتحت بھی بھلا کونسا مخلص ہے جو آ سکے اور کونسے مخلصوں کو میں نے یہ تعریف کر کے منافق بنا دیا ہے۔کیا مخلص بھی کبھی مرتد ہو ا کرتے ہیں یا وہ جو ایمان سے داخل ہوتے اور بعد میں مرتد ہو جاتے ہیں۔انہیں منافقین کی بجائے سابقون الاولون اور انصار اور مہاجر کہنا چاہئے۔پھر میں نے کہا تھا کہ منافقوں کی ایک قسم وہ ہے جن کے اندر ایمان تو ہوتا ہے مگر ساتھ کفر بھی ہوتا ہے اور اس ایمان اور کفر کے ان پر دورے آتے رہتے ہیں۔کبھی قربانیاں کرنے لگ جائیں گے اور کبھی ہمت ہار کر بیٹھ جائیں گے اور سلسلہ اور نظام پر اعتراض کرنے لگ جائیں گے۔اس تعریف کے ماتحت بھی کوئی مخلص نہیں آ سکتا کیونکہ مخلص اور مؤمن کبھی ہمت نہیں ہارا کرتے اور ان پر انکار اور بُزدلی کا دورہ کبھی نہیں آیا کرتا۔پھر منافقوں کا چوتھا گروہ میں نے اُسے قرار دیا تھا جو مؤمن کی بات کو بُراسمجھتا اور منافق کی دوستانہ تعلقات کی وجہ سے تائید کرتا رہتا ہے۔اب بتاؤ اس دائرہ میں بھی کو نسے مخلص آسکتے ہیں یا کونسے ایسے مؤمن ہیں جو اس تعریف کی زد میں آسکتے ہیں۔اگر واقع میں کوئی مخلص ہے تو می وہ مخلصوں کی تائید کرے گا منافقوں کی تائید کس طرح کرے گا۔اور اگر وہ منافقوں کی کی تائید کرے گا تو اُسے مخلص اور مؤمن سمجھنا غلطی ہوگا۔غرض منافقین کی جو علامتیں میں نے بتائی تھیں ان میں سے کوئی بھی ایسی علامت نہیں جس سے مخلصین کے اخلاص اور مؤمنین کے ایمان کو اشتباہ کی نگاہوں سے دیکھا جا سکے۔پھر جو کچھ میں نے بیان کیا تھا قرآن کریم سے بیان کیا تھا اگر اسے یہ باتیں بُری معلوم ہوتی ہیں تو وہ کی قرآن کریم سے یہ آیتیں نکال کر پھینک دے اور کوئی ایسا قرآن چھاپے جس میں یہ آیتیں موجود نہ ہوں۔جس دن وہ ایسا قرآن چھاپ دے گا ہم سمجھ لیں گے کہ اب ہمیں منافقوں کی یہ تعریف نہیں کرنی چاہئے لیکن اگر یہ آیتیں قرآن کریم میں رہیں گی اور ہمیشہ رہیں گی اور قیامت تک کوئی کافر اور منافق ان کو قرآن کریم سے نکال نہیں سکتا تو جب تک یہ آیتیں موجود ہیں،