خطبات محمود (جلد 19) — Page 501
خطبات محمود ۵۰۱ سال ۱۹۳۸ء اور منافق اس کے ذریعہ اپنے مقصود کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یا جیسا کہ سورۃ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے ان کا نام الْمُرْجِفُونَ فِي المَدِينَة هلا رکھا ہے کہ منافق بات کرتا ہے اور یہ اس کی بات کو پھیلا دیتا ہے اور اگر مؤمن کوئی بات کریں تو ان کی بات منافقوں تک پہنچا دیتا ہے اور کہتا ہے تم تو بڑے اچھے ہو مگر ان لوگوں کو نہ معلوم کیا ہو گیا ہے کہ وہ خواہ مخواہ تمہیں بدنام کرتے پھرتے ہیں۔یہ آپ منافق نہیں ہوتا مگر منافق تک خبریں پہنچائے بغیر بھی نہیں کی رہتا۔دوسری بات اس میں یہ پائی جاتی ہے کہ منافقوں کے اعتراضات کو پھیلاتا رہتا ہے۔منافق کہتا ہے جماعت خراب ہوگئی ، اور یہ طوطے کی طرح اس فقرہ کو رٹنا شروع کر دیتا ہے اور جہاں بیٹھتا ہے کہتا ہے جماعت خراب ہو گئی جماعت خراب ہوگئی۔پس یہ مؤمن تو ہے مگر بے وقوف اور جاہل مؤمن ہے۔ایسا مؤمن ہے جو منافقوں کا ہتھیار ہے جب اس قسم کی باتیں کی کرنے کے نتیجہ میں گرفت کی جاتی ہے تو پکڑا یہ بے وقوف مؤمن جاتا ہے جو منافق کی بات کی طوطے کی طرح آرٹ کر ہر شخص کے آگے بیان کر رہا ہوتا ہے اور منافق دندناتا پھرتا ہے کیونکہ منافق کا یہی کام ہے کہ يُوَسْوِسُ فِي صُدُور النا میں لے وہ سینہ میں وسوسہ ڈال دیتا اور آپ پیچھے ہٹ جاتا ہے تو یہ چوتھی قسم کا منافق ہے اور گو یہ اصل میں مؤمن ہوتا ہے مگر اس کے اندر نفاق سے ہمدردی اور منافقوں کی دوستی پائی جاتی ہے۔اس وجہ سے یہ بالکل ایمان کے کنارے پر کھڑا ہوتا ہے۔بالکل ممکن ہے یہ مؤمن ہی رہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کبھی کوئی ایسا دھکا لگے کہ خود بھی نفاق کے گڑھے میں گر جائے اور اگر خود منافق نہ بھی بنے تب بھی بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ منافقوں کی سزا پالیتا ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے لا تركنوا إلى الذينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ، کلے دیکھو ظالموں کی طرف مت جھکو ور نہ تمہیں بھی آگ چھو جائے گی۔یہ آیت بتاتی ہے کہ وہ جو ظالم نہیں وہ بھی بعض دفعہ ظالم کی دوستی کی وجہ سے جہنم میں چلے جاتے ہیں۔پس یہ گروہ ایمان کے لحاظ سے منافق نہیں ہوتا مگر منافقوں کی دوستی اِس کا شعار ہوتا ہے اور اس وجہ سے زمرہ منافقین میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ وہ چار قسم کے منافق ہیں جن کا قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے۔اب اگر تم ان چاروں کو مدنظر رکھو تو تمہیں کبھی دھوکا نہیں لگ سکتا۔بسا اوقات صرف اتنا سمجھا جاتا ہے کہ منافق وہ ہوتا ہے