خطبات محمود (جلد 19) — Page 498
خطبات محمود ۴۹۸ سال ۱۹۳۸ء اسی طرح مؤمن جب دیکھتا ہے کہ جماعت کے لوگ نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں، حج کرتے ہیں ، قربانیاں کرتے ہیں، استغفار پڑھتے ہیں ، دعائیں کرتے کی ہیں اور باوجود اس کے کوئی خطا بھی ان سے سرزد ہو جاتی ہے اور وہ اس خطا کا ازالہ کرنے کے لئے تیار رہتا ہے تو وہ ان خطاؤں کو ایسا ہی سمجھتا ہے جیسے میدانِ جنگ میں لڑنے والا سپاہی بعض دفعہ دشمن کے مقابلہ میں مارا جاتا ہے۔اب یہ نہیں ہوتا کہ جو سپاہی دشمن سے لڑتا ہو ا مارا جائے اُسے فوج والے کوڑے لگانے شروع کر دیں اور کہیں کہ اس نے ہماری ہتک کی بلکہ وہ اس کی کی عزت کرتے ہیں کیونکہ وہ جو کچھ کر سکتا تھا اُس نے کر دیا۔اگر دشمن اس پر وار کرنے میں ایک کی دفعہ کا میاب ہو گیا ہے تو اس میں اُس کا کیا قصور ہے۔اُس کا کام صرف اتنا تھا کہ بیچنے کی کوشش کرتا اور دشمن پر غالب آنے کی جدو جہد کرتا۔جب اُس نے یہ دونوں کام کر لئے تو نتیجہ کا وہ حج ذمہ دار نہیں۔اسی طرح جب کوئی قوم رات دن دین کی خدمت میں مشغول رہتی ہے ، رات دن بنی نوع انسان کی بہبودی کے کاموں میں مصروف رہتی ہے ، رات دن اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے اور اُس کا جلال دنیا میں قائم کرنے کے لئے کوشاں رہتی ہے ، تو اگر ان سب کوششوں کے ساتھ کوئی غلطی بھی کسی مؤمن سے ہو جاتی ہے تو وہ جماعت کی جد و جہد اور قربانیوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور اس کمزوری کو وہ نظر انداز کر دیتا ہے۔جیسے اگر کوئی بیمار ہوا اور لڑائی کی خبر سن کر وہ بیماری کے باوجود چار پائی سے اُٹھ کر میدان میں چلا جائے اور لڑ نا شروع کر دے تو چاہے وہ ایک گھنٹہ میں ایک ہی گولی چلائے تب بھی تم سب اُس کی تعریف کرو گے اور کہو گے یہ بیمار تھا مگر پھر بھی اس نے اس موقع سے پیچھے ہٹنا مناسب خیال نہ کیا۔تو مؤمن نگاہ تو یہ کہتی ہے کہ میرے بھائی میں اگر ایک عیب ہے تو سو خو بیاں بھی تو ہیں۔اس ایک کمزوری کے باوجود وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے شیطان سے جنگ کر رہا ہے اور اس قابل ہے کہ اسے سراہا جائے اور اس کی خدمات کی تعریف کی جائے مگر جو منافق ہوتا ہے اُس کا قلبی لگاؤ چونکہ نہیں ہوتا اور محبت کا تعلق اُسے سلسلہ سے نہیں رہتا اس لئے وہ اس قسم کی بعض کمزوریوں کو دیکھ کر یہ کہنے لگ جاتا ہے اب پتہ لگا ان میں بھی فلاں فلاں عیب ہیں ، ان میں بھی یہ یہ نقص پایا جاتا ہے اور چونکہ اب اس میں کچھ غیریت آنے لگ جاتی ہے اس لئے اب وہ