خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 451

خطبات محمود ۴۵۱ سال ۱۹۳۸ کا خطاب مل جائے تو پھر وہ ہندوستان کی بزعم خود نا پاک زمین پر قدم رکھنا مناسب نہیں سمجھتا اور چاہتا ہے کہ اس کے بس میں ہو تو ہوا میں چلے اور کوئی سی۔آئی۔ای بن جائے تو پھر وہ ہندوستانیوں سے زیادہ ملاقات کو بھی اپنے لئے اچھا نہیں سمجھتا اور سمجھتا ہے کہ اب تو میں انگریز بن گیا ہوں۔اور اگر کوئی سر ہو جائے تو وہ کبھی الیکشن کے موقع پر مدد لینے کے لئے جائے تو کی جائے ورنہ ہندوستانیوں کی شکل دیکھنا بھی ان کے لئے تکلیف دہ ہوتا ہے حالانکہ ہندوستان میں ہزاروں خانصاحب موجود ہیں۔بعض چھوٹے چھوٹے گاؤں میں بھی جہاں لوگوں نے فوجی خدمات کی کیں ، خانصاحب آپ کو ملیں گے۔تو اس قدر کثرت سے خانصاحب کا خطاب رکھنے والے لوگ ہیں کہ بعض شہروں میں تو ان کی کئی ٹیمیں بن سکتی ہیں۔اور یہی حال خان بہادروں کا ہے سال میں دو دفعہ اس خطاب والوں کی فہرستیں چھپتی ہیں جو اتنی لمبی ہوتی ہیں کہ کوئی کام والا آدمی ساری کی ساری پڑھ بھی نہیں سکتا۔ہر سال سو دو سو آدمی خان صاحب اور خان بہادر بن جاتے ہیں اور دس بیس سر بھی ہو جاتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں برٹش ایمپائر میں ہزاروں سر ہوں گے لیکن باوجود اس کے کہ اس کثرت کے ساتھ یہ خطاب لوگوں کو ملتے ہیں ، پھر بھی جسے مل جائے اُس کا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔پھر سر سے اوپر لارڈ کا درجہ ہے یہ بھی ہزار بارہ سو سے کیا کم ہوں گے۔پانچ چھ سو تو پارلیمنٹ کے ممبر ہی ہیں۔پھر کئی لارڈوں کی اولادیں ہیں جن کو لارڈ کا خطاب ملا ہے گو وہ ہاؤس آف لارڈز کے ممبر نہیں۔اور آئر لینڈ کے لارڈ استحقاق کے ساتھ ہاؤس آف لارڈز کے ممبر بھی نہیں ہوتے۔لارڈ ز میں سے پھر مارکوٹس اور ڈیوک ہیں اور سب سے اوپر بادشاہ کا رتبہ ہے۔بادشاہ بھی ایک وقت میں دنیا میں چالیس پچاس بلکہ سو بھی کی موجود ہوتے ہیں۔اسی زمانہ میں جب کہ پارلیمنٹوں کا زمانہ ہے جاپان کا بادشاہ ہے۔مانچو کوٹ (MANCHUKU) کا بادشاہ ہے، پھر ایران ، عراق ، نجد ، افغانستان کے بادشاہ ہیں۔گویا یہ چھ تو اسی کے حصہ کے ہیں۔ان کے علاوہ مصر کا بادشاہ ہے، ٹرانس جارڈ ینیا سے کا ہے، آٹھ ہو گئے۔پھر یمن کا ہے۔گل نو ہو گئے۔پھر یورپ میں بھی آٹھ دس ہیں ، اٹلی کا ہے، یوگوسلاویہ کا ، رومانیہ، بلغاریہ، یونان ، انگلستان، ڈنمارک، ناروے،سویڈن کے بادشاہ ہیں۔تو اس گئے گزرے زمانہ میں بھی جب بادشاہتیں بالکل مٹائی جا رہی ہیں ، ہمیں چھپیں بادشاہ کی۔