خطبات محمود (جلد 19) — Page 452
خطبات محمود ۴۵۲ سال ۱۹۳۸ء موجود ہیں۔اور جب پارلیمنٹوں کا دستور نہیں تھا اُس وقت تو ایک ایک ملک میں کئی کئی سو بادشاہ کی ہوتے تھے مگر پھر بھی جب کوئی بادشاہ بنتا ہے تو سمجھنے لگتا ہے کہ خبر نہیں کہ میں کیا بن گیا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ امیر عبدا لرحمان خان کا باپ افغانستان سے بھاگ گیا تھا اور امیر عبدالرحمان نے خود یہ بات واپس آکر سنائی کہ روس کو جاتے ہوئے جب وہ بخارا میں سے گزرے تو ایک گاؤں میں کسی بات پر گاؤں والوں نے بتایا کہ یہ بات تو بادشاہ کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔اُنہوں نے پوچھا کہ بادشاہ کہاں ہیں ؟ تو گاؤں کی والوں نے بتایا کہ گھاس لینے گئے ہیں۔وہ اُسی گاؤں کا بادشاہ تھا۔تھوڑی دیر میں لوگوں نے بتایا کہ وہ بادشاہ سلامت آرہے ہیں۔وہ ایک دبلے پتلے گھوڑے پر سوار تھا۔ادھر سے امیر عبدالرحمان خان کے والد اپنے گھوڑے پر سوار اُس کی طرف گئے تو با وجود موٹا تازہ ہونے کے امیر کا گھوڑا ڈر گیا۔اُس نے آواز دی کہ عبدالرحمان ذرا ادھر آنا۔مگر امیر عبدالرحمان نے کہا کہ میں دو بادشاہوں کی لڑائی میں دخل دینا نہیں چاہتا۔تو ایک صوبہ ، ایک ضلع اور ایک تحصیلی کا چھوڑ کر ایک گاؤں کے بادشاہ بھی ہوتے ہیں مگر پھر بھی وہ اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہم بادشاہ ہیں۔بادشاہ سے اوپر شہنشاہ ہوتا ہے وہ بھی دنیا میں کئی کئی ہوتے ہیں۔پچھلے زمانہ میں انگلستان، روس، جرمن اور ایسے سینیا کے بادشاہ شہنشاہ کہلاتے تھے اور اس طرح چارشهنشاه به یک وقت دنیا میں موجود تھے۔جنگ کے بعد دومٹ گئے اور طاقتور شہنشاہ ایک رہا۔دوسرا ایسے سینیا کا شہنشاہ تھا جو بیچارہ کسی حساب میں نہ تھا۔خدا تعالیٰ کو یہ پسند نہ آیا کہ حقیقی شہنشاہ ایک ہی رہے اس لئے اٹلی نے حبشہ کو فتح کر کے اپنے بادشاہ کا نام شہنشاہ رکھ دیا ج اور اس طرح اب پھر دو شہنشاہ ہو گئے ہیں۔تو دیکھو یہ کتنی چھوٹی چیزیں ہیں مگر دنیا ان پر کتنا فخر کرتی ہے۔مگر تم لوگوں نے بھی کبھی غور کیا ہے کہ تمہارے سپر د جو کام کیا گیا ہے وہ صرف ایک قوم کو تم سے پہلے جب سے کہ آدم پیدا ہو اسپر د کیا گیا تھا۔حضرت نوح علیہ السلام آئے مگر اُن کی تبلیغ کا دائرہ بہت محدود تھا ، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے وہ بڑے عظیم الشان نبی تھے مگر صرف بنی اسرائیل کے لئے۔ہم داؤ داور سلیمان علیہما السلام کا ذکر کس عظمت کے ساتھ پڑھتے ہیں مگر وہ بھی محدود دائرہ کے لئے مبعوث