خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 370

خطبات محمود ۳۷۰ سال ۱۹۳۸ طفیل ہے۔اس نے بادشاہی تعلقات کی کبھی پرواہ نہیں کی اور ہمیشہ ہمارا ساتھ دیتا رہا اب اس کے ساتھ رعائت کی جائے اور اسے یہ سزا نہ دی جائے۔مگر اس نے ان کی کوئی بات نہ سنی اور کی کہا گولی چلا ؤ۔چنانچہ سپاہیوں نے باڑ مار دی اور وہ رئیس مرکر گر پڑا۔ادھر استاد کے منہ سے اس مفہوم کا ایک فقرہ نکلا۔کہ آہ میری امیدوں کی عمارت منہدم ہوگئی اور ایک پستول چلنے کی آواز آئی۔لوگوں نے مڑ کر دیکھا۔تو اس رئیس کی لاش کے ساتھ استاد کی لاش بھی تڑپ رہی تھی۔اور وہ بھی اس کے غم میں خود کشی کر چکا تھا۔ہے یہ واقعہ گو ایک ناول میں بیان ہوا ہے لیکن تاریخی مواد سے ماخوذ اس میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسانی فیصلہ بعض دفعہ متضاد حالات میں ہوتا ہے۔قضاء اور طرف جاتی۔اور جذبات اور طرف جاتے ہیں اور اس میں بتایا گیا ہے کہ انسانی روح بعض فعلوں سے دو طرح متاثر ہوتی ہے۔ایک قضائی طور پر اور ایک جذباتی طور پر۔چنانچہ اسی بناء پر اس فرانسیسی بغاوت کے لیڈر نے بھی ایک طرف سزا کا حکم دیا کیونکہ قضاء کا یہی فیصلہ تھا کہ جو شخص اپنے ملک سے ایسی غداری کرے، اُسے ایسی ہی سزا ملنی چاہئیے۔دوسری طرف چونکہ اس نے اسے ایک بچے کی طرح پالا تھا اور اُس کے ساتھ اُس کی امیدیں وابستہ تھیں جب اس نے دیکھا کہ وہ ایک خطا کی وجہ سے مارا گیا ہے تو چونکہ ان کے مذہب میں خود کشی نا جائز نہیں اس لئے اس نے بھی خودکشی کر لی۔غرض تاریخی واقعات اور روز مرہ کے واقعات سے یہ امر پوری طرح ظاہر ہو جاتا ہے۔کہ انسانی روح بعض افعال سے دو طرح متاثر ہوتی ہے۔ایک قضائی طور پر اور ایک جذباتی طور پر۔بعض دفعہ قضائی فیصلہ بالکل اور ہوتا ہے اور جذباتی فیصلہ بالکل اور ہوتا ہے۔اور کبھی یہ دونوں فیصلے موافق بھی ہوتے ہیں مگر بہر حال دیانت دار انسان وہ ہوتا ہے جو قضائی حصہ کو جذباتی حصہ سے مغلوب نہ ہونے دے۔بے شک جذباتی حصہ پیدا ہوگا اور ضرور ہو گا مگر انسان کا کام یہ ہے کہ اس سے مغلوب نہ ہو۔ایک حج کے سامنے اگر اس کا بیٹا ملزم کی کی حیثیت میں پیش ہوگا تو کون کہہ سکتا ہے کہ اس کے دل میں رحم پیدا نہیں ہو گا مگر بطور حج کے اس کا فرض ہے کہ اسے سزا دے۔مگر کیا جب وہ سزا دے گا اسے غم نہیں ہوگا، ہو گا اور ضرور ہو گا مگر کیا