خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 369

خطبات محمود ۳۶۹ سال ۱۹۳۸ء مقیم ہو گئے اور وہاں بیٹھ کر انہوں نے سازشیں شروع کر دیں۔اس موقع پر قصہ یہ بتایا جاتا ہے کہ ایک نواب کے خورد سال بھتیجے کو جو اسی نواب کا وارث تھا، ایک استاد رکھ کر تعلیم دلائی گئی۔استاد دل میں جمہوریت کا قائل تھا۔اس نے اسے جس قدر تعلیم دی وہ جمہوریت کے اصول پر دی۔ملک کے حقوق اس کے ذہن نشین کئے اور اس عمدگی سے وہ اصول اس کے ذہن میں داخل کئے کہ وہ ان کا اچھا خاصہ مبلغ ہو گیا۔چنانچہ جہاں بیٹھتا انہی اصول کی لوگوں کو تلقین کرتا۔جب بغاوت ہوئی تو قدرتی طور پر وہ عوام الناس کے ساتھ مل گیا اور اپنے بھائی بندوں کو اس نے چھوڑ دیا۔ایک موقع پر ایسا اتفاق ہوا کہ اس کا وہ چچا جس نے اسے پالا تھا لڑائی میں اس کے مقابل میں آ گیا اور آخر شکست کھا کر وہ گرفتار کر لیا گیا۔جب اس کا چچا پکڑا گیا تو چونکہ اس نے بچپن سے اسے پالا تھا، اس لئے بھیجے کے دل میں محبت کے جذبات نے جوش مارا اور اس نے یہ سمجھتے ہوئے کہ ملک کی خیر خواہی کا جو فرض مجھ پر عائد ہوتا تھا وہ تو میں ادا کر چکا ہوں اور اب میں اپنا ذاتی فرض بھی ادا کر دوں۔قید خانہ میں جا کر اپنے چا کو چھوڑ دیا۔اس پر تمام ملک میں شور پڑ گیا اور فرانس کی پارلیمنٹ میں مقدمہ پیش ہوا۔انہوں نے ایک کمیشن تجویز کی کیا اور اسی استاد کو جس نے اسے تعلیم دی تھی اس مقدمہ کا فیصلہ کرنے کے لئے جج مقرر کیا۔چونکہ اس نے ملک کے لئے بڑی قربانیاں کی تھیں اس لئے فوج کے بڑے بڑے افسر وفد بن کر اس کے پاس گئے اور کہا کہ اس کی گزشتہ خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے متعلق نرم فیصلہ کیا جائے مگر اس نے ان کی ایک نہ سنی اور فیصلہ کیا کہ اسے گولی سے اڑا دیا جائے اور کہا کہ اس کے فعل کے نتیجہ میں جو کشت و خون ہوگا اس کا کیا علاج ہے۔چنانچہ اس فیصلہ کے مطابق اسے ایک جگہ کھڑا کیا گیا اور بندوقوں کی باڑ مار کر اسے مار دینے کا حکم ملا۔طریق یہی ہے کہ جب باڑ مارتے ہیں تو درجن بھر یا کم و بیش تعداد سپاہیوں کی صف باندھ کر مجرم پر حکم ملتے ہی گولیاں چلاتی ہے اور اس سے غرض ایک تو رُعب قائم کرنا ہوتا ہے دوسرے یہ احتیاط ہوتی ہے کہ بیک وقت کئی سپاہی نشانہ لیں گے تو نشانہ خطا نہ ہو گا اور مجرم ضرور مر جائے گا۔جب اس نواب زادہ کو میدان میں کھڑا کیا گیا اور سپاہی بھی مختلف جگہوں پر متعین کر دیئے گئے تو پھر بڑے بڑے افسروں کا ایک وفد اس استاد کے پاس گیا اور اس نے کہا ہماری ساری فتح اسی کے