خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 352

خطبات محمود ۳۵۲ سال ۱۹۳۸ سمجھانے کے لئے خدا تعالیٰ نے وہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ بھی بندے کی حالت دیکھ کر اس بات کو جائز سمجھتا ہے کہ اپنی صفات کو محدود شکل میں پیش کرے تو اگر اس کا کوئی نادان بندہ اپنی ناواقفیت کی وجہ سے ان الفاظ میں اپنی محبت کا اظہار کر دے تو یہ قابلِ اعتراض بات نہیں ہوگی جب تک وہ عقیدے اور حقیقت کے طور پر بیان نہ کرے۔ہاں اگر وہ حقیقت کے طور پر بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ واقعہ میں اللہ تعالیٰ نَعُوذُ بِاللہ ایک غلیظ ہستی ہے ، اس کے بڑے بڑے بال ہیں اور چونکہ اسے پانی نہیں ملتا اس لئے بالوں میں جوئیں پڑ جاتی ہیں اور ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی گڈریا اس پر مہربان ہو جو ا سے نہلائے اور اس کی جوئیں نکالے، تو یہ واقع میں بری بات ہوگی۔یا اگر عقیدے کے طور پر کوئی شخص بیان کر دے کہ اللہ تعالیٰ نَعُوذُ بِاللہ کنگال ہے ، وہ سارا دن سفر کرتا رہتا ہے ، اس کے پاؤں میں جوتی تک نہیں ہوتی اور کانٹے اس کے پیر میں کچھ جاتے ہیں اور اس بات کی کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی گڈریا اس کے کانٹے نکالے تو یہ سخت معیوب بات ہوگی جیسے یہ معیوب بات ہے جو بعض مذاہب والوں کی طرف سے کہی جاتی ہے کہ خدا بندہ بن کر نازل ہوتا ہے چنانچہ بعضوں نے کہہ دیا کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی شکل میں ظاہر ہوا۔اور بعضوں نے کہہ دیا کہ وہ حضرت کرشن یا حضرت رام چندر جی کی شکل میں ظاہر ہوا۔آخر کیا فرق ہے اس بات میں کہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے صوفی اس گڈریا کی براءت تو کرتے ہیں مگر ان لوگوں کی تردید کرتے ہیں جن کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانی شکل میں حلول اختیار کرتا ہے۔کوئی کہ سکتا ہے کہ گڈریا نے بھی یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہیں، اس کے پیر ہیں اس کا جسم ہے اور بعض مذاہب والے بھی یہی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بعض انسانوں کی شکل میں تجسم اختیار کرتا ہے مگر تم ایک کے متعلق تو یہ کہتے ہو کہ وہ گمراہ ہیں اور ایک کے متعلق یہ کہتے ہو کہ اس نے محبت کے جوش میں ایسا کہا۔اس کا جواب یہی ہے کہ گڈریا خدا تعالیٰ کو واقع میں ایسا نہیں سمجھتا تھا۔مگر وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے جسم کے قائل ہیں ، ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانی جسم اختیار کرتا ہے۔پس ج چونکہ وہ واقع میں سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں عام انسانوں کی طرح پیدا ہوتا ہے، پھر بڑا ہوتا ہے، پھر شادی بیاہ کرتا ہے، پھر اس کے بچے پیدا ہوتے ہیں ، اس لئے وہ گنہ گار ہوتے ہیں ، مگر کی