خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 353

خطبات محمود ۳۵۳ سال ۱۹۳۸ جو نا واقفیت کی وجہ سے اس رنگ میں اظہار محبت کرتا ہے وہ گنہ گار نہیں ہوتا۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں بعض دفعہ مائیں اپنے بچوں سے ایسا سلوک کرتی ہیں جس کا ظاہر اور ہوتا ہے اور باطن اور۔اگر کسی کو اپنا ما حول غور سے دیکھنے کا موقع ملا ہو تو اسے کئی ایسی مثالیں نظر آئیں گی کہ بعض دفعہ وہ غریب عورتیں جو امیر گھرانوں میں نوکر ہوتی ہیں یادہ غریب عورتیں جن کے ارد گر دا امیر لوگ ہی بستے ہیں ان کا کوئی بچہ بعض دفعہ مظلومیت کے طور پر کسی امیر آدمی کے بچہ سے پٹ جاتا ہے ، وہ بعض دفعہ تکبر کی وجہ سے بعض دفعہ شرارت کی وجہ سے اور بعض دفعہ یونہی بلا وجہ دوسرے غریب بچہ کو پیٹ ڈالتا ہے ، ماں یہ تمام واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہے۔وہ جانتی ہے کہ میرا بچہ مظلوم ہے ، وہ جانتی ہے کہ میرے بچے کا کوئی قصور نہیں، مگر وہ یہ بھی جانتی ہے کہ میں بدلہ نہیں لے سکتی۔پس وہ اپنے غصہ کا اظہار اس طرح کرتی ہے کہ اپنے ہی بچہ کو پیٹنے لگ جاتی ہے۔وہ اسے مارتی جاتی ہے اور اس کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں اور کہتی جاتی ہے کہ تو وہاں گیا کیوں تھا۔تو وہاں گیا کیوں تھا۔اب گو بظاہر بچے کو مار پڑ رہی ہوتی ہے مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ ما ر نفرت یا غصے کے اظہار کی علامت نہیں بلکہ محبت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہوتی ہے۔اگر کوئی طاقتور ماں ہو تو وہ مارنے والے بچہ کی ماں سے جا کر لڑ سکتی ہے۔اگر کوئی برابر کا خاندان ہو تو اس کا مقابلہ کر سکتا ہے مگر وہ ماں جو مجھتی ہے کہ میرے اندر مقابلہ کی طاقت نہیں اور ادھر اس کا دل چاہتا ہے کہ میں پیٹ کر اپنا غصہ نکالوں۔جب وہ اپنے غصہ کے اظہار کا اور کوئی ذریعہ نہیں دیکھتی تو اپنے ہی بچہ کو مارنے لگ جاتی ہے اور کہتی ہے تو وہاں گیا کیوں تھا حالانکہ وہ بچہ کوحق پر بجھتی ہے۔تو عقل بتاتی ہے کہ اس کی مار اس وجہ سے نہیں ہوتی کہ تو وہاں کیوں گیا تھا بلکہ اس کی مار اس وجہ سے ہوتی ہے کہ تو نے ایسے مقام پر مجھے کیوں کھڑا کیا کہ میں تیری کوئی ہمدردی نہیں کر سکتی۔دنیا میں ماریں غصہ پیدا کرتی ہیں اور بہت سی ماریں دیکھ کر کی تمہارے دل میں طیش پیدا ہو گا اور تم چاہو گے کہ اگر تمہارا بس چلے تو تم مارنے والے کو مارو اور کی اسے سرزنش کرو لیکن اگر تمہاری عقل کی آنکھیں کھلی ہیں اور اگر روحانیت کی کوئی حس تم میں باقی ہے تو ایسی عورت کو مارتے دیکھ کر تمہاری آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے اور تم عورت پر غصے نہیں ہو گے بلکہ اپنے خدا سے کہو گے کہ اے خدا! کیا دنیا میں تیری ایسی بے بس مخلوق بھی موجود