خطبات محمود (جلد 19) — Page 349
خطبات محمود ۳۴۹ سال ۱۹۳۸ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کرتے تو مرزا کا لفظ استعمال کیا کرتے اور فرماتے ”ہمارے مرزا کی یہ بات ہے۔ابتدائی ایام سے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ابھی دعویٰ نہیں تھا چونکہ آپ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلقات تھے اس لئے اس وقت سے یہ الفاظ آپ کی زبان پر چڑھے ہوئے تھے۔کئی نا دان اس وقت اعتراض کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ادب نہیں۔(حضرت) مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں آپ کو لوگ عام طور پر مولوی صاحب ، یا بڑے مولوی صاحب کہا کرتے تھے ) میں نے خود کئی دفعہ یہ اعتراض لوگوں کے منہ سے سنا ہے اور حضرت مولوی صاحب کو اس کا جواب دیتے ہوئے بھی سنا ہے چنانچہ ایک دفعہ اسی مسجد میں حضرت خلیفہ اول جب کہ درس دے رہے تھے آپ نے فرمایا۔بعض لوگ مجھ پر اعتراض کی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ادب نہیں کرتا حالانکہ کی میں محبت اور پیار کی شدت کے وقت یہ لفظ بولا کرتا ہوں۔تو ظاہری الفاظ کو نہیں دیکھنا چاہیئے بلکہ ان الفاظ کے اندر جو حقیقت مخفی ہو اس کو دیکھنا چاہئے۔جیسے میں نے بتایا ہے بعض الفاظ معمولی ہوتے ہیں مگر ان میں پیار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہوتا ہے اور بعض الفاظ اچھے ہوتے ہیں مگران کا مضمون نہایت بُرا ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں عام طور پر جب کسی کو بیوقوف کہنا ہو تو اسے بادشاہ کہہ دیتے ہیں اور باتیں کرتے ہوئے اس سے کہتے ہیں ' بادشا ہواے کی کہندے ہو ، یعنی تمہاری باتیں احمقوں کی سی ہیں۔پس جب کسی کو بادشاہ کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے۔کہ وہ احمق ہے اور اگر اگلا بادشاہ کہنے سے چڑے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ میں نے اس کی اتنی تعریف کی اور یہ الٹا مجھ سے ناراض ہوتا ہے۔تو خالی الفاظ نہیں دیکھے جاتے بلکہ ان الفاظ کا جو مفہوم ہوتا ہے وہ دیکھا جاتا ہے:- پس ہمیشہ کسی امر کے متعلق فتویٰ لگانے سے پہلے اس حقیقت کو معلوم کرنا چاہئے جو پس پردہ کام کر رہی ہوتی ہے۔ہر اعتراض اعتراض نہیں ہوتا اور ہر تعریف تعریف نہیں ہوتی۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ دوزخ میں جب وہ کا فر رو سا ڈالے جائیں گے جودنیا میں بڑے بڑے دعوے