خطبات محمود (جلد 19) — Page 337
خطبات محمود ۳۳۷ سال ۱۹۳۸ء اس کے اختیارات انتظام کے لحاظ سے زیادہ رکھے ہیں اور تربیت کے اختیارات میں مرد کو کی مقدم رکھا ہے اور مردوں پر عورتوں کی اصلاح کی ذمہ داری رکھی گئی ہے۔یوں تو سارے بنی نوع انسان کی اصلاح کی ذمہ داری مؤمن پر ہوتی ہے لیکن اپنے بیوی بچوں کی اصلاح کی ذمہ داری خصوصیت کے ساتھ ہے۔مگر افسوس ہے کہ لوگ بالعموم اپنے بیوی بچوں کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ایک مخلص دوست تھے جو اب فوت ہو چکے ہیں ، ان کے لڑکے نے ایک دفعہ مجھے لکھا کہ مجھے میرے والد صاحب اخبار الفضل، خرید کر نہیں دیتے۔آپ ان کو لکھیں کہ میرے نام جاری کر دیں۔وہ لڑکا سکول یا کالج میں پڑھتا تھا۔اس نے لکھا کہ ہماری اور دینی تعلیم کا تو سامان نہیں کم سے کم اخبار سے سلسلہ سے لگاؤ رہے گا۔اس کے والد ا چھے آسودہ حال آدمی تھے۔میں نے ان کو خط لکھوایا تو انہوں نے جواب دیا کہ اصل بات یہ ہے کہ بچوں کا ایمان ان کے ساتھ ہوتا ہے۔انہیں آزادی ہونی چاہئے کہ خود تحقیقات کریں اور جو نتیجہ چاہیں نکالیں۔بہر حال مجھے اپنے بچہ کی شکایت پر خوشی ہے کہ اس کو احمدیت کی طرف توجہ ہوئی میں کی اخبار اس کے نام جاری کرا دوں گا۔اب بظا ہر تو یہ بات بہت خوشنما ہے کہ گویا وہ حریت ضمیر کے قائل تھے لیکن کیا ہندو ، عیسائی اور یہودی وغیرہ دیگر مذاہب کے لوگ اپنے بچوں کو یونہی چھوڑ دیتے ہیں۔اگر ہم اس اصول پر کار بند ہوں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ باطل کے سر پرست اپنے بچوں کو باطل کی تعلیم دیں لیکن اسلام کے خدام اپنے بچوں کو چھوڑ دیں کہ جو چاہے ان کا شکار کر کے لے جائے۔یقیناً جو شخص بچوں کی اصلاح کے طریقوں کو بھی حریت ضمیر کے خلاف سمجھے گا اس کے بچے گمراہی کا شکار ہونے کے خطرہ میں رہیں گے۔پس بیوی بچوں کی اصلاح کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔اس لئے جو بھی تحریک ہوا سے اس قدر عام کرنا چاہئے کہ وہ بچوں اور عورتوں تک بھی پہنچ جائے ورنہ اس کے وہ عظیم الشان نتائج نہیں نکل سکیں گے جو نکلنے چاہئیں اور جن کو دیکھ کر دنیا دنگ رہ جائے۔یا د رکھنا چاہئے کہ بچپن کی تربیت بہت اعلیٰ درجہ کے نتائج پیدا کرتی ہے۔ایمانی لحاظ سے دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔یا تو خود تحقیق کر کے ایمان لایا جائے اور یا پھر بچپن کی تربیت ایسی ہو۔تحقیق کے ذریعہ سب کے سب لوگوں کا ایمان حاصل کرنا تو انبیاء کے زمانہ میں ہوتا ہے۔بعد کے زمانوں میں