خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 327

خطبات محمود ۳۲۷ سال ۱۹۳۸ فتنہ پرداز ہیں وہ یقیناً مایوس ہو جائیں گے اور آلومیئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ والی حالت نظر آنے لگ جائے گی۔اس صورت میں وہ مدرس مدرس نہیں ہوگا جو اس رنگ میں اسلام کی تعلیم دے گا بلکہ دین کا ستون ہوگا اور آئندہ جب لوگ یہ دعا کریں گے کہ اللهُمَّ صَلِ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ تو آلِ مُحَمَّد میں خدا تعالیٰ کے فرشتے اس مدرس کا نام بھی لکھ لیں گے اور کہیں گے یہ وہ شخص ہے جس کی بدولت آج تک دنیا میں تعلیم اسلام قائم ہے۔پس مدرس بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔در حقیقت وہ ایک خاموش نائب ہے نبی کا۔وہ دنیا کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے مگر خدا تعالیٰ کی نظر اس پر ہر وقت پڑ رہی ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کے ذریعہ دین کی ترقی ہو رہی ہے۔اسی طرح ہر جماعت اور بڑی جماعتوں میں ہر محلہ کے پریذیڈنٹ اگر کوشش کریں تو وہ اپنے اپنے دائرہ میں مفید کام کر سکتے ہیں۔انجمن خدام الاحمدیہ کے ارکان کو بھی چاہئے خواہ وہ مرکزی انجمن سے تعلق رکھتے ہیں یا بیرونی انجمنوں سے کہ وہ اس سلسلہ میں عملی قدم اٹھا ئیں اور اپنے ممبروں کو اسلامی تعلیم سے آگاہ کرنے کیلئے ایک پروگرام تیار کریں اور ایسا کورس مقرر کریں جس کو پڑھ لینے کے بعد وہ اسلامی مسائل سے بہت حد تک آگاہ ہو جائیں۔پھر ان سے جگہ جگہ لیکچر دلائیں تا کہ یہ باتیں نہ صرف ان کے ذہن میں پختہ طور پر جم جائیں بلکہ دوسروں کو بھی ان کے مطالعہ سے فائدہ پہنچے۔اور اگر وہ اس رنگ میں کام کی کریں تو سلسلہ کی بہت بڑی خدمت کر سکتے ہیں کیونکہ یہ کام کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ ساری جماعت کا ہے اور جب تک ساری جماعت مل کر کام نہ کرے انفرادی کوششوں سے یہ کام نہیں ہوسکتا۔اس کیلئے ضروری ہے کہ اپنے اپنے دائرہ میں مختلف گروہ کام کر رہے ہوں۔ایک طرف بچوں کی تربیت ہورہی ہو، ایک طرف عورتوں کی تربیت ہورہی ہو، ایک طرف نو جوانوں کی تربیت ہو رہی ہو اور ایک طرف بڑی عمر کے لوگوں کی تربیت ہو رہی ہو۔مثلاً اب خطبہ میں میں نے اس امر کی طرف توجہ دلا دی ہے مگر خالی میرا خطبہ پڑھ دینا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ خطبہ شائع ہونے کے بعد مختلف انجمنیں اس خطبہ کی روح کو لے کر کھڑی ہو جائیں اور لوگوں کو اس کی کے مطابق تیار کرنا شروع کر دیں، پھر ان سے جو چھوٹی انجمنیں ہیں وہ کام شروع کر دیں، پھر مدرسوں کے اساتذہ زور دینا شروع کر دیں۔پھر گھروں میں ماں باپ سمجھانا شروع کر دیں،