خطبات محمود (جلد 19) — Page 326
خطبات محمود ۳۲۶ سال ۱۹۳۸ جس کے نتیجہ میں وہ سلسلہ اور اسلام کیلئے زیادہ سے زیادہ مفید ثابت ہوسکیں۔پس مدرسه تعلیم الاسلام کے ہیڈ ماسٹر صاحب اور دوسرے مدرسوں کے ہیڈ ماسٹر اور اسا تذہ صاحبان کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلام کی ان تعلیموں کو متواتر اور کثرت کے ساتھ لڑکوں کے سامنے پیش کریں اور انہیں ان حکمتوں اور فوائد سے آگاہ کریں جو ان تعلیموں میں کام کر رہے ہیں اور ایسے جلسے سکولوں میں کرتے رہیں جن میں انہی مضامین پر لڑکوں سے تقریریں کرائی جائیں۔بیشک وہ لڑکوں کو دنیوی تعلیم بھی دیں اور ضروری ہے کہ دنیوی تعلیم دیں کیونکہ یہ امر بھی اور طالبعلموں کو کھینچنے اور مرکز سلسلہ میں لانے کا موجب ہوتا ہے۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے کہ جب سے سکول کے اساتذہ نے اس طرف توجہ کی ہے ان کے نتائج پہلے سے بہت زیادہ شاندار نکلنے شروع ہو گئے ہیں۔حالانکہ یہی مدرس اور اساتذہ پہلے بھی تھے مگر چونکہ اب انہوں نے توجہ اور محنت سے کام کرنا شروع کر دیا ہے اس لئے انہیں کا میابی بھی زیادہ ہو رہی ہے۔اسی طرح اگر وہ دینی معاملات کی طرف توجہ کریں تو یقیناً ہمارے طالب علم جب تعلیم سے فارغ ہو کر نکلیں گی گے تو اسلام کے جھنڈے کے حامل ہوں گے۔پس یہ دو محکمے تو ایسے ہیں کہ اگر ان میں کی دیانتداری اور اخلاص کے ساتھ کام کیا جائے تو صدیوں تک ثواب میسر آ سکتا ہے۔آخر انٹرنس کی کے امتحان میں اگر لڑ کے اچھے نکلیں گے تو اس کا ثواب مدرسوں کو اسی سال حاصل ہوگا اور اس کی نیک نامی بھی انہیں اسی سال حاصل ہوگی لیکن اگر وہ اچھے احمدی اپنے سکول سے نکالیں تو کی اس کا ثواب ان کی وفات کے ہزاروں سال بعد بھی انہیں ملتا رہے گا۔پس خدا تعالیٰ نے ان کیلئے یہ ایک ایسا راستہ کھولا ہوا ہے جس پر چل کر وہ قیامت تک خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کی دعا ئیں حاصل کر سکتے ہیں۔پھر اس کا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ جماعت میں کوئی فتنہ پیدا نہیں ہو سکے گا۔فتنہ اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب فتنہ پرداز یہ سمجھتے ہیں کہ بعض لوگ ہماری باتوں سے متاثر ہو جائیں گے لیکن اگر یہ دونوں مدر سے لڑکوں اور لڑکیوں میں اسلامی روح پیدا کر دیں ، نظام سلسلہ کا احترام ان کے دلوں میں پیدا کر دیں، اسلام کے احکام کی عظمت ان کے دلوں میں پیدا کر دیں اور انہیں ایک ایسی مضبوط چٹان کی طرح بنا دیں کہ کوئی فتنہ ان کے ایمان کو متزلزل نہ کر سکے اور وہ سلسلہ اور اسلام کے کامل عاشق ہوں تو جس قدر۔