خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 312

خطبات محمود ۳۱۲ سال ۱۹۳۸ء اتنا روپیہ لے گیا اور وہ یہ نہیں سوچتا کہ میں نے فلاں کے ساتھ دھو کہ بازی کی تھی اور اس کا اتنا کی مال میں نے بھی بے جا طور پر غصب کر لیا تھا۔اسی طرح ایک دوسرے کے خلاف اور دوسرا تیسرے کے خلاف شور مچائے پھرتا ہے حالانکہ ان میں سے ہر شخص خود بھی دھوکہ باز اور مجرم ہوتا ہے۔اگر یہ سارے اپنی اپنی جگہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم نے بد دیانتی سے دوسرے کا مال نہیں لینا تو مالی حالت گو ان کی پھر بھی ویسی ہی رہتی جیسی پہلے تھی مگر زائد فائدہ یہ ہوتا کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور مقبول ہو جاتے اور اس کی نصرت اور تائید ان کے شامل حال رہتی۔تو اسلامی تعلیم کے رائج ہونے کے ساتھ ہی دنیا کی بہتری ہے اور ہمیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان عطا کیا ہے، جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا بے نظیر ہادی اور قرآن کریم جیسا بے نظیر ہدایت نامہ ملا ہے، یہ امر ہمیشہ سوچتے رہنا چاہئے کہ وہ کون سے ذرائع ہیں جن کے ماتحت اسلامی تعلیم کو دنیا میں قائم کیا جا سکتا ہے۔ہم خود جب قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس میں جو کچھ لکھا ہے صحیح ہے تو ہمارے لئے اس امر کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں رہتا کہ ہمارا اولین فرض اسلامی تعلیم کا احیاء ہے کیونکہ ہم جس دن قرآن پر ایمان لائے اسی دن ہم نے اقرار کر لیا کہ ہم اس کا جوا اپنی گردن پر اٹھاتے ہیں اور اس کی تعلیم کو تمام دنیا میں پھیلانے کا عہد کرتے ہیں لیکن اگر اس اقرار اور اس ایمان کے بعد بھی ہم عمل ترک کر دیں اور اپنے فرائض کی ادائیگی کی طرف کوئی توجہ نہ کریں تو دوسروں پر کیا گلا ہوسکتا ہے۔پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ نہایت سنجیدگی اور اہتمام سے اس کام کیلئے کھڑی ہو جائے۔یہ مت خیال کرو کہ تم تھوڑے ہو، تم دنیا میں کیا کر سکو گے۔دنیا میں کئی چھوٹی چیزیں ایسی ہیں جو ابتداء میں حقیر دکھائی دیتی ہیں مگر آخر سب دنیا میں پھیل جاتی ہیں۔طریق یہی ہے کہ پہلے اسے ایک اختیار کرتا ہے پھر دوسرا اختیار کرتا ہے پھر تیسرا اختیار کرتا ہے یہاں تک کہ رفتہ رفتہ تمام لوگ اسے اختیار کر لیتے ہیں۔حدیث قدسی میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی پیارے بندے کی قبولیت کو دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے تو قریب کے فرشتوں کو بتا تا ہے کہ فلاں شخص میرا محبوب ہے تم بھی اس سے محبت رکھو۔نچلے فرشتوں کو جب معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر کے ملائکہ سے کوئی بات کہی ہے