خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 311

خطبات محمود ۳۱۱ سال ۱۹۳۸ء ابھی پچھلے دنوں ایک جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا تھا کہ مصری صاحب کا مقاطعہ جو جماعت احمدیہ نے کیا ہے یہ درست نہیں اور کسی کا حق نہیں کہ وہ ایسے معاملات میں دخل دے اور ج دکانداروں کو ہدایت کرے کہ سودا وغیرہ نہ دیں مگر اس کے خلاف جب بالا حج کے پاس اپیل کی گئی تو اس نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ یہ بالکل غلط بات ہے۔اگر کوئی قوم اپنے لئے ایک قانون بناتی ہے تو کسی کا کوئی حق نہیں کہ اس قانون میں دخل دے۔یہ برطانوی روح جو اس حج سے ظاہر ہوئی وہی ہے جس کا میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ برطانوی حکومت میں افراد کی آزادی کی کی روح پائی جاتی ہے۔گویا یہ ایک ممتاز نیکی ہے جو اس قوم میں پائی جاتی ہے اور اسی نیکی کے اثر کے ماتحت مذکورہ بالا جج نے یہ فیصلہ کیا کہ جماعت احمدیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قانون شکنی کئے بغیر جماعت کی بہتری کیلئے جو قانون چاہے بنائے اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اگر اس بات کو سمجھیں کہ اصل فائدہ اسی تعلیم میں ہے جو اسلام نے پیش کی ہے تو وہ وسو سے جو بعض دفعہ انسانی قلب میں پیدا ہو جاتے ہیں اور انسان یہ خیال کرنے لگ جاتا ہے کہ اس تعلیم پر عمل کر کے مجھے فلاں نقصان پہنچے گا وہ تھوڑی سی توجہ اور اصلاح سے دور ہو سکتے ہیں۔مثلاً بد دیانتی ہے۔یہ ایک عیب ہے جو دنیا میں پایا جاتا ہے۔اس کے ماتحت بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ زید بکر سے دس روپے کو ٹتا ہے اور عمر، زید سے وہ روپے کوٹ لیتا ہے۔پھر خالد آتا ہے وہ عمر سے روپے لے جاتا ہے اور اس طرح عملی رنگ میں حساب و ہیں آکر ٹھہرتا ہے جہاں بد دیانتی سے پہلے تھا۔اگر زید، بکر، عمر اور خالد سب دیانتداری اختیار کریں تو روپیہ بھی وہیں کا وہیں رہے گا اور مزید فائدہ یہ ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے محفوظ رہیں گے۔تمہیں دنیا میں یہ کہیں نظر نہیں آئے گا کہ ٹھگ آخر تک کامیاب ہوتا چلا جائے۔ٹھگی اور دھوکا بازی آخر ایک دن ظاہر ہو کر رہتی ہے۔فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ یہ اس سے روپیہ چھینتا ہے اور وہ اس کا روپیہ غصب کر لیتا ہے۔اگر سب اپنی اپنی جگہ روٹی کھائیں اور دوسرے کے مال کی طرف تحریص کی نگاہوں سے نہ دیکھیں تو انہیں ایک دوسرے کے خلاف کوئی شکایت پیدا نہ ہو۔مگر اب یہ حال ہے کہ ایک دوسرے سے چھینتا ہے اس سے اگلا چھین لیتا ہے اور اس سے کوئی اور چھین لیتا ہے اور سارے ہی فریا دی رہتے ہیں۔ایک کہتا ہے دنیا کتنی خراب ہوگئی ، فلاں شخص مجھ سے دھوکا بازی کر کے