خطبات محمود (جلد 19) — Page 292
خطبات محمود ۲۹۲ سال ۱۹۳۸ء مظہر نہ بنے تو کیا کرے۔اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ سزا کے مقام پر صفت ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کا مظہر بنے ، چشم پوشی یا احسان کے موقع پر صفت رحمانیت کا مظہر بنے ، پرورش کے موقع پر صفت ربوبیت کا مظہر بنے اور انعامات کے موقع پر صفت رحیمیت کا مظہر بنے۔ہاں اگر وہ ان صفات کے خلاف چلتا ہے تب بے شک اعتراض کیا جاسکتا ہے اور کہا جاسکتا ہے کہ جب میت یوم الدین کی صفت کا ظہور ضروری ہوتا ہے تو یہ رحمانیت کی صفت ظاہر کرنے لگ جاتا ہے اور جب رحیمیت کی صفت جلوہ گری ضروری ہوتی ہے تو ربوبیت کا اظہار کرنے لگ جاتا ہے مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ رحمن کیوں ہے، یہ رحیم کیوں ہے، یہ رب العلمین کیوں ہے اور یہ ميك يوم الدین کیوں ہے۔جس طرح خدا تعالیٰ کسی موقع پر رب العلمین ہوتا ہے اور کسی موقع پر رحمن، کسی موقع پر رحیم ہوتا ہے اور کسی موقع پر ملک یوم الدین۔یہی حال بندے کا ہے اسے بھی مختلف موقعوں پر مختلف صفات کا اظہار کرنا پڑتا ہے۔ہاں جو چیز اعتراض کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ خدا کسی کو معاف کر رہا ہو اور یہ اسے سزا دینے کے درپے ہو۔یا خدا سزا دینے کے درپے ہو اور یہ اسے معاف کر رہا ہو۔یہ قابلِ اعتراض بات ہے اور یہ نہیں ہونی کی چاہئے مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کیوں کسی وقت سزا دی جاتی ہے اور کسی وقت معاف کر دیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں دیکھ لو اللہ تعالیٰ ایک مقام پر فرماتا ہے کہ تم لوگوں کو معاف کیا کرو کیونکہ درگزر کرنا اور چشم پوشی سے کام لینا بڑی اچھی بات ہے۔لیکن دوسری جگہ فرماتا ہے کہ جب فلاں قسم کے مجرموں کو سزادی جارہی ہوتو یا درکھو اگر اُس وقت تمہارے دل میں ذرا بھی رحم پیدا ہوا تو تم اللہ تعالیٰ کو ناراض کر لو گے۔اب ایک طرف اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ لوگوں کو معاف کرو اور دوسری طرف یہ فرماتا ہے کہ دیکھنا تمہارے دل میں بھی رحم نہ آئے۔رحم پیدا ہوا اور تمہارا ایمان ضائع ہوا۔اب یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ نَعُوذُ بالله شقاوت قلبی کی تعلیم دیتا ہے۔یا جب کہتا ہے کہ معاف کرو تو بُز دل بناتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا منشاء اس میں ہمیں یہ بتانا ہے کہ جب میں کہوں کہ سزا دو تو تم سزا دو اور جب میں کہوں چھوڑ دو تو تم چھوڑ دو۔جب میں رحمانیت کا جامہ پہن کر آؤں تو تم بھی رحمانیت کا جامہ پہن لو اور جب میں ملت يوم الدين کا جامہ پہن کر آؤں تو تم بھی رحمانیت کا جامہ اتار کر مالکیت یوم الدین کا جامہ پہن لو۔غرض جس جبہ